بنجمن نیتن یاہو کی بقا کی حکمت عملی: سیاسی ڈیڈ لاک کے دوران غزہ میں کشیدگی میں اضافہ
جیسے جیسے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ستمبر کے انتخابات سے قبل ایک مشکل سیاسی صورتحال سے گزر رہے ہیں، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی منظم مسماری اور علاقائی مٹانے کی ایک نئی مہم کے لیے ایک سوچی سمجھی ڈھال بن کر رہ گئی ہے۔
This brief reflects the perspective of Al Jazeera, which uses highly critical and emotionally charged language to describe the conflict. The characterizations of the ceasefire as a 'tactical screen' and 'territorial erasure' are significant claims from regional sources and have not been triangulated with neutral international agencies.

"اسرائیل نے 'جنگ بندی' کو اپنے جاری جنگی جرائم کے لیے بطور کور استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
موجودہ کشیدگی فوجی کارروائی اور انتخابی بقا کا مجموعہ ہے۔ شدید لڑائی کو برقرار رکھ کر، بنجمن نیتن یاہو اپنے سخت گیر دائیں بازو کے اتحادیوں کو خوش کر رہے ہیں جو کسی بھی مستقل جنگ بندی کو سیاسی شکست سمجھتے ہیں۔ Al Jazeera کا دعویٰ ہے کہ بنجمن نیتن یاہو حکومت کو گرنے سے بچانے کے لیے جان بوجھ کر امن عمل میں تاخیر کر رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ حکمت عملی روایتی جنگ سے ہٹ کر اس علاقے کو مستقل طور پر رہنے کے قابل نہ بنانے کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔
'جنگ بندی' اب صرف نام کی رہ گئی ہے، جو اب تشدد روکنے کے بجائے زمین کی صفائی کے لیے ایک کم شدت والے قبضے کے مرحلے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ UN Human Rights Office نے الزام لگایا ہے کہ یہ ایک 'جان بوجھ کر تیار کردہ' انسانی بحران ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک اور ادویات کی بندش کو غزہ کے 23 لاکھ رہائشیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنے کی پالیسی کے لیے نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ بحران غزہ کی تقریباً دو دہائیوں سے جاری ناکہ بندی کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز 2007 میں Hamas کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہوا تھا۔ برسوں تک، اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ایک ایسا نظریہ استعمال کیا جسے اکثر 'گھاس کاٹنا' کہا جاتا ہے—یعنی وقفے وقفے سے ایسی فوجی کارروائیاں کرنا جن کا مقصد طویل مدتی سیاسی حل کے بجائے عسکریت پسندوں کی صلاحیتوں کو کم کرنا تھا۔ اس سلسلے نے مکمل تباہی تو روکی مگر بے یقینی کی مستقل کیفیت کو برقرار رکھا۔
تاہم، اکتوبر 2023 سے ہونے والی تباہی کی شدت پچھلی جھڑپوں سے بالکل مختلف ہے۔ غزہ کی تقریباً 90 فیصد عمارتیں تباہ ہونے کی اطلاعات کے ساتھ، حکمت عملی اب ایک مخالف پڑوسی سے نمٹنے کے بجائے شہری ڈھانچے کی منظم توڑ پھوڑ میں بدل چکی ہے۔ یہ تاریخی موڑ Oslo دور کے نظریات کی مکمل ناکامی اور علاقے پر مکمل قبضے کی جانب پیش قدمی کی عکاسی کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
اداریے کا لہجہ گہری تشویش اور مذمت پر مبنی ہے، جس میں اس 'جنگ بندی' کی منافقت پر توجہ دی گئی ہے جو مسلسل قتل و غارت کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کے قوانین نافذ کرنے میں ناکامی پر مایوسی کا احساس پایا جاتا ہے، ساتھ ہی بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی مقاصد پر ایک تنقیدی نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 72,797 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سات ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 880 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
- •اسرائیلی افواج نے نصیرات، بریج اور مغازی کیمپوں میں منظم طریقے سے مسماری کی ہے، جبکہ دیر البلح کے مشرق میں بڑے پیمانے پر زمینوں کو تباہ کیا گیا ہے۔
- •غزہ رائٹس سینٹر نے مئی 2026 میں کم از کم ایسے 12 کیسز ریکارڈ کیے ہیں جہاں جبری انخلاء کے احکامات کے بعد رہائشی بلاکس کو تباہ کر دیا گیا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔