بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں زمین قبضے کی کارروائیاں تیز کر دیں: آئی ڈی ایف (IDF) کو 70 فیصد کنٹرول کی ہدایت پر عالمی برادری برہم
غزہ میں جنگ بندی کا نازک توازن بگڑتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی فوج (IDF) کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضے کا حکم دے دیا ہے، جس سے فلسطینی خود مختاری کا روڈ میپ عملی طور پر ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔
This report utilizes emotionally charged language from regional sources to describe Israeli military directives and includes territorial claims from Hamas officials that have not been independently verified by neutral international observers.

"غزہ کا 100 فیصد حصہ صرف فلسطینی عوام کے لیے ہونا چاہیے۔"
تفصیلی جائزہ
نیتن یاہو کی یہ ہدایت 'Trump Plan' کے فریم ورک سے ایک بڑا انحراف ہے، جس میں اصل میں اسرائیلی فوج کی واپسی کا تصور دیا گیا تھا نہ کہ قبضے میں اضافے کا۔ 70 فیصد کنٹرول کا ہدف رکھ کر اسرائیلی حکومت 'یلو لائن' کے علیحدگی زون کو مستقل قبضے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، تاکہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے سے پہلے ہی فلسطینیوں کو ایک سکڑتے ہوئے محصور علاقے تک محدود کر دیا جائے۔
سرحدوں کی اس تبدیلی کی قانونی حیثیت اور نیت پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اسرائیلی حکام اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، جبکہ حماس (Hamas) کے عہدیداروں کے مطابق یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حماس کے ترجمان Hazem Qassem کے مطابق بین الاقوامی مانیٹرنگ باڈیز کی خاموشی کو تل ابیب مزید قبضے کے لیے گرین سگنل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ علاقائی تنازع اکتوبر 2025 کی فوجی تعیناتی کے بعد سے شروع ہوا، جب اسرائیلی فوج نے 'یلو لائن' کے تحت غزہ کے 53 فیصد حصے پر کنٹرول سنبھالا تھا۔ یہ ایک متنازعہ امن اقدام کا حصہ تھا جس کا مقصد مرحلہ وار اسرائیلی افواج کا انخلاء تھا، لیکن اب واپسی کے بجائے مزید قبضے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
خود 'یلو لائن' غزہ میں دہائیوں سے بدلتی ہوئی سرحدوں اور بفر زونز کی یاد دلاتی ہے، جو اکثر طویل مدتی قبضے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ لکیریں ہمیشہ تصادم کا مرکز رہی ہیں، کیونکہ ان میں ذرا سی تبدیلی بھی دنیا کے گنجان آباد ترین علاقے غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
عوامی ردعمل
اس صورتحال سے سفارتی تناؤ میں شدید اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ جنگ بندی کے مستقبل پر گہرے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے سخت تنقیدی لہجہ اپنایا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کے عزائم بین الاقوامی قانون اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے خلاف ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق امن کا یہ فریم ورک تباہی کے دہانے پر ہے، جس کی جگہ اب دوبارہ قبضے اور مزاحمت کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
اہم حقائق
- •وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول 60 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
- •اقوام متحدہ (UN) کے ترجمان Stephane Dujarric نے اس منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا علاقہ صرف فلسطینی باشندوں کے لیے ہی رہنا چاہیے۔
- •اسرائیلی فوج فی الحال 'یلو لائن' (yellow line) پر تعینات ہے، جو ایک عارضی علیحدگی زون ہے، لیکن فلسطینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسے حالیہ مہینوں میں مغرب کی طرف 8 سے 9 فیصد تک دھکیل دیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔