ایک نسل خطرے میں: انگلینڈ کے نوجوانوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی لہر
ایک طرف عالمی وبا اور دوسری طرف مہنگائی کے طوفان کے سائے میں، انگلینڈ کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد صحت مند زندگی کے راستے سے بھٹک رہی ہے۔ سستی اور ڈبہ بند سہولیات کی بہتات نے ان کے لیے تندرست رہنا مشکل بنا دیا ہے۔
This brief is based on academic research published in The Lancet and corroborated by British health organizations, though it focuses primarily on systemic socioeconomic causes of health outcomes.

""یہ نوجوان اپنی نشوونما کے دوران ہر طرف غیر صحت بخش خوراک سے گھرے رہے ہیں۔ ہماری گلیوں اور بازاروں میں ٹیک اویز اور فاسٹ فوڈ کی دکانوں کی بھرمار ہو چکی ہے، اور جب یہ نوجوان بڑے ہو رہے تھے، تب انہیں ہر وقت اشتہارات کے ذریعے یہی نقصان دہ کھانا دکھایا گیا۔""
تفصیلی جائزہ
20 اور 30 سال کے نوجوانوں میں موٹاپے کا بڑھنا ایک ایسا ڈھانچہ جاتی جال ہے جہاں ان کی صحت کا فیصلہ معاشی حالات کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نسل اس دور میں جوان ہوئی جب غیر صحت بخش کھانے کی مارکیٹ تیزی سے پھیلی، اور انہیں ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سستے فاسٹ فوڈ کے 'دوہرے حملے' کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں کچھ لوگ اسے انفرادی پسند کا نام دیتے ہیں، وہیں صحت کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ ڈیلیوری ایپس اور فاسٹ فوڈ کے غلبے نے صحت مند زندگی کو ایک عام ضرورت کے بجائے ایک تعیش بنا دیا ہے۔
اس بحران میں ایک واضح سماجی اور معاشی فرق بھی نظر آ رہا ہے، جہاں پسماندہ علاقوں اور غیر سفید فام کمیونٹیز میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ BBC کے مطابق، عالمی وبا کے دوران کام اور بچوں کی دیکھ بھال کے دباؤ اور پھر مہنگائی نے لوگوں کو سستی لیکن ناقص غذا کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ رجحان اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ جوانی کا موٹاپا آگے چل کر ذیابیطس (Type 2 Diabetes) اور دل کی بیماریوں جیسے سنگین خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جو مستقبل میں نظامِ صحت پر بوجھ بن سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پچھلے بیس سالوں میں برطانیہ میں غذائی عادات بالکل بدل چکی ہیں۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں 'الٹرا پراسیسڈ' کھانوں کی دستیابی بڑھی اور ساتھ ہی ڈیجیٹل انقلاب آیا جس نے کھانے کو موبائل اسکرین کے ایک ٹچ تک محدود کر دیا۔ سہولت کے اس دور نے ان بچوں اور نوجوانوں کی عادات کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے جو اب اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں۔
COVID-19 کی وبا نے ان رجحانات کو مزید ہوا دی اور ورزش کے معمولات کو درہم برہم کر دیا۔ تاریخی طور پر مہنگائی ہمیشہ سے عوامی صحت پر اثر انداز ہوتی رہی ہے، لیکن حالیہ مہنگائی اور تیار کھانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے مل کر ایک انوکھا طبی بحران پیدا کر دیا ہے جو پچھلی نسلوں کے مسائل سے بالکل مختلف ہے۔
عوامی ردعمل
طبی ماہرین اور ہیلتھ ڈائریکٹرز اس صورتحال پر شدید تشویش اور فوری اقدام کی ضرورت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ 'فوڈ سسٹم' نوجوانوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے، اور اب قصور فرد کا نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اشتہارات اور قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو صحت کا فرق مزید بڑھے گا اور پسماندہ طبقہ سب سے زیادہ خطرے میں رہے گا۔
اہم حقائق
- •2019-20 اور 2024-25 کے درمیانی عرصے میں 30 سال سے زائد عمر کے افراد میں موٹاپے کی تشخیص کے کیسز میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
- •20 سے 29 سال کے نوجوانوں میں تشخیص کی شرح میں 16 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔
- •Food Foundation کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر صحت بخش خوراک کے مقابلے میں صحت مند کھانا فی کیلوری دگنا مہنگا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔