ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan15 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

آپریشن شعبان: بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی تیز، ہلاکتوں میں اضافہ

بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں جب دھول بیٹھ رہی ہے، تو آپریشن شعبان کے دوران ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ریاست کی اس کثیر الجہتی شورش کے خلاف بقا کی جنگ میں ایک نئے اور سخت باب کا آغاز ہے۔

AI Editor's Analysis
Pro-State LeaningSensationalized

This brief reflects a narrative heavily influenced by Pakistani state and military sources, particularly concerning casualty figures and allegations of foreign backing. The language incorporates the government's security-centric framing while noting that claims of external involvement remain regional assertions rather than internationally verified facts.

آپریشن شعبان: بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی تیز، ہلاکتوں میں اضافہ
""ایک بات طے ہے: یہ سول اور فوجی قیادت کا باہمی اور متفقہ فیصلہ ہے کہ ہمیں مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔""
Shehbaz Sharif (Speaking at the Provincial Apex Committee meeting in Quetta regarding the National Action Plan.)

تفصیلی جائزہ

سول ملٹری قیادت کا یہ 'متفقہ فیصلہ' بلوچستان کو مستحکم کرنے کے لیے سخت گیر پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ اربوں ڈالر کے CPEC (China-Pakistan Economic Corridor) کے لیے انتہائی اہم ہے۔ مئی میں دہشت گردی کے واقعات میں 109 فیصد اضافے کے بعد، ریاست اب سیاسی مذاکرات کے بجائے فوجی کارروائیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔

جیو پولیٹیکل کشیدگی اس تنازع کا ایک اہم پہلو ہے۔ ISPR ان گروہوں کی پشت پناہی کا الزام India اور Afghanistan پر عائد کرتا ہے، جبکہ UNSC کی بین الاقوامی رپورٹس BLA اور TTP کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ ریاست کا 'آپریشن شعبان' کی طرف رجوع کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب دفاعی حکمتِ عملی کے بجائے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے پر توجہ ہے۔

پس منظر اور تاریخ

بلوچستان میں شورش دہائیوں پرانی ہے جس کی جڑیں صوبائی خود مختاری اور قدرتی وسائل کی تقسیم میں ہیں۔ تاہم، 2021 میں Afghanistan میں طالبان کے کنٹرول کے بعد صورتحال بدل گئی، جس کے بارے میں Islamabad کا دعویٰ ہے کہ اس سے TTP جیسے گروہوں کو Pakistan میں حملوں کے لیے 'محفوظ پناہ گاہیں' میسر آئیں۔

مزید برآں، CPEC کی وجہ سے یہ صوبہ جیو پولیٹیکل شطرنج کی بساط بن چکا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور چینی انفراسٹرکچر پر حملوں نے پاکستانی ریاست کو اپنی فوجی موجودگی بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ 2020 کی دہائی کے وسط سے BLA جیسے گروہوں نے چھوٹی گوریلا کارروائیوں کے بجائے زیادہ منظم اور جان لیوا حملے شروع کر دیے ہیں۔

عوامی ردعمل

بڑے میڈیا اداروں کا ادارتی رویہ ریاست کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ تشدد کے خاتمے پر قومی اتفاق ہے، لیکن اس حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں کہ آیا صرف فوجی طاقت سے اس بحران کو حل کیا جا سکتا ہے جو سیاسی اور معاشی محرومیوں میں پیوست ہے۔

اہم حقائق

  • سیکیورٹی فورسز کے مطابق 15 جولائی 2026 کو مزید تین دہشت گرد مارے گئے، جس سے آپریشن شعبان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 88 ہو گئی ہے۔
  • 5 جولائی 2026 سے اب تک پورے بلوچستان میں آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 126 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • یہ آپریشن زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا، جہاں 27 پولیس اہلکار شہید یا اغوا ہوئے تھے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Ziarat📍 Quetta📍 Balochistan

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Operation Shaban: Death Toll Rises as Pakistan Intensifies Balochistan Counter-Insurgency - Haroof News | حروف