سرحد پار ڈرون جنگ: پاکستان اور طالبان کے بحران کا نیا محاذ
اسلام آباد اور کابل کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کا لبادہ آخر کار ڈیجیٹل دور کی ایک جنگ میں بدل کر تار تار ہو چکا ہے، جہاں اب سفارتی مراسلوں کی جگہ ڈرون حملوں نے لے لی ہے اور سرحدی باڑ علاقائی اشتعال انگیزی کا مرکز بن گئی ہے۔
This brief synthesizes conflicting military reports from both Islamabad and Kabul that lack independent verification, particularly concerning casualty figures and mission intent. The narrative uses dramatic framing to reflect the severe escalation in regional tensions.

""ڈرون حملے اکتوبر 2025 سے افغان اور پاکستانی علاقوں کے درمیان فوجی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں۔""
تفصیلی جائزہ
افغان طالبان کی جانب سے ڈرونز کا استعمال پاکستان کے ساتھ ان کے تصادم میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ روایتی پراکسی جنگ کے بجائے ریاستی سطح پر فضائی دراندازی کر کے کابل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اب اسلام آباد کی عسکری برتری کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہ 'tit-for-tat' (اینٹ کا جواب پتھر سے) سلسلہ ڈیورنڈ لائن کو مستقل طور پر غیر مستحکم کر سکتا ہے، جس سے دہشت گردی کا مسئلہ دو ریاستوں کے درمیان باقاعدہ جنگ میں بدلنے کا خطرہ ہے۔
طاقت کا یہ توازن ہلاکتوں کی رپورٹنگ میں واضح فرق کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ Al Jazeera کے مطابق کابل کا دعویٰ ہے کہ وہ ISIS کے ان خطرات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں اسلام آباد روکنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان TTP (تحریک طالبان پاکستان) جیسے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 29 جون کے حملوں میں 25 جنگجو مارے گئے، لیکن طالبان حکومت 36 عام شہریوں کی ہلاکت پر اصرار کر رہی ہے، جو دونوں طرف قوم پرستی کے جذبات کو ابھارنے کی ایک معلوماتی جنگ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی 1947 کی تقسیم سے جڑی ہے کیونکہ افغانستان نے کبھی بھی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کیا۔ تاہم موجودہ بحران کی جڑیں 2021 میں طالبان کے قبضے میں گہری ہیں۔ پاکستان نے شروع میں طالبان کی جیت کو ایک اسٹریٹجک فتح سمجھا تھا، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ اسلام آباد کو ایک تابعدار پڑوسی کے بجائے ایک ایسا نظام ملا جو TTP کو پناہ فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں دہشت گردی میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ کشیدگی اس 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' (Strategic Depth) کے نظریے کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جو کبھی پاکستانی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ تھا۔ امریکی قبضے کے دوران طالبان کی حمایت سے لے کر اب ان کے خلاف فضائی حملے کرنے تک کا سفر اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس کی وجہ وہ بڑھتی ہوئی ہلاکتیں ہیں جنہوں نے صرف 2025 میں 1,000 سے زائد جانیں لیں۔
عوامی ردعمل
اس وقت ماحول شدید تناؤ اور باہمی بے وفائی کا شکار ہے۔ پاکستان میں ادارتی لہجہ کافی جارحانہ ہے، جہاں سیکورٹی حکام ڈرون دراندازی کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں جس کا بھرپور جواب دینا ضروری ہے۔ دوسری طرف، طالبان انتظامیہ اسے ایک جائز جوابی کارروائی کے طور پر پیش کر رہی ہے تاکہ وہ خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر منوا سکیں جو اپنی سرحدوں سے باہر بھی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہے، چاہے اس سے وہ سفارتی طور پر بالکل تنہا ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
اہم حقائق
- •پاکستانی فوج نے یکم جولائی 2026 کو بلوچستان کے ضلع پشین میں افغان طالبان کے 4 ڈرونز کو ناکارہ بنا کر مار گرایا۔
- •کابل کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر ان فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستانی حدود میں ISIL (داعش) کے مراکز کو نشانہ بنا رہے تھے۔
- •یہ واقعہ 29 جون کو افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فوج کے اس آپریشن کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔