پاکستان کا زرعی جوا: 140 ارب روپے کے نقصان کے مقابلے میں صرف 7.1 ارب روپے کا فنڈ
فوڈ سیکیورٹی کے حصول کے لیے اسلام آباد نے گندم کے 140 ارب روپے کے سالانہ نقصان کے سامنے صرف 7.1 ارب روپے کا معمولی فنڈ مختص کیا ہے، جو ملک کے سب سے بڑے معاشی انجن میں ایک بڑی خامی کو ظاہر کرتا ہے۔
The report utilizes provocative language such as 'catastrophic' and 'hemorrhage' to highlight fiscal disparities, accurately reflecting the critical tone of the original reporting while grounding its claims in industry-sourced statistics.

"پاکستان کا اسٹوریج انفراسٹرکچر "زرعی ویلیو چین کی سب سے کمزور کڑیوں میں سے ایک ہے۔""
تفصیلی جائزہ
مالیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو، موجودہ بجٹ میں مختص رقم سپلائی چین کی نااہلی کی وجہ سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ جدید اسٹوریج کی کمی کو پورا نہ کر کے حکومت ترقی کے بجائے ضیاع کو سہارا دے رہی ہے، جس سے زرعی شعبے کی GDP میں شراکت محدود ہو رہی ہے۔
کریڈٹ مارکیٹ کی ناکامی کی وجہ سے بینک کٹائی کے بعد کی فنانسنگ میں دلچسپی نہیں لیتے، جس سے کسان سستے داموں فصل بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ Mahmood Nawaz Shah جیسے ماہرین کے مطابق، تمام زرعی شعبوں میں مجموعی نقصان 35 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو پاکستان کی ایکسپورٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا زرعی اسٹوریج کا بحران کئی دہائیوں سے صرف پیداوار پر توجہ دینے اور دیکھ بھال کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ گرین ریوولیوشن (Green Revolution) کے بعد سے توجہ صرف زیادہ پیداوار پر رہی، لیکن روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے ساتھ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری نہ بڑھ سکی۔
تاریخی طور پر، سرکاری خریداری کے نظام نے صرف گندم کو تحفظ دیا ہے، جس سے پھلوں اور سبزیوں کا شعبہ متاثر ہوا۔ برسوں کی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے آج ملک ریکارڈ فصلیں تو پیدا کرتا ہے لیکن انہیں مقامی یا بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے خراب ہونے سے بچانے کے لیے سہولیات موجود نہیں ہیں۔
عوامی ردعمل
زرعی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد میں گہری مایوسی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کا بجٹ نقصانات کی سنگینی کے مقابلے میں بہت کم ہے اور موجودہ انفراسٹرکچر ملک کی فوڈ سیکیورٹی یا کسانوں کے روزگار کے لیے بالکل ناکافی ہے۔
اہم حقائق
- •وفاقی حکومت نے بجٹ 2026-27 میں زرعی اسٹوریج انفراسٹرکچر کے لیے 7.1 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
- •پاکستان سالانہ 3 کروڑ ٹن پھل اور سبزیاں پیدا کرتا ہے لیکن کولڈ اسٹوریج (cold-storage) کی گنجائش 10 لاکھ ٹن سے بھی کم ہے۔
- •پاکستان میں جلد خراب ہونے والی اشیاء کے کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 20 سے 40 فیصد کے درمیان ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔