پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعہ میں شدت، فضائی حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ
اسلام آباد اور کابل کے درمیان طاقت کا نازک توازن ایک بار پھر بگڑ گیا ہے کیونکہ پاکستانی افواج نے سرحد پار مہلک حملے کیے ہیں، جو کہ علاقائی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں 'زیرو ٹالرینس' (عدم برداشت) کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
The report highlights a significant discrepancy between Pakistan's claims of targeting militants and the Taliban's reports of civilian casualties. Due to the lack of independent third-party verification in the border region, these conflicting figures remain unverified state narratives.

"بعد ازاں، جب مقامی باشندے ریسکیو آپریشن کے لیے جمع ہوئے، تو اس علاقے پر دوسری بار بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں 28 دیہاتی شہید اور 158 دیگر زخمی ہوئے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ کشیدگی کابل میں طالبان کی زیر قیادت انتظامیہ کے خلاف پاکستان کے فوجی رویے میں نمایاں سختی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام آباد TTP کی طرف سے لاحق مسلسل وجودی خطرے کو ختم کرنے کے لیے افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کے لیے تیزی سے تیار نظر آتا ہے۔ ان حملوں کو کھلے عام کراچی حملے اور ایک افغان شہری کی گرفتاری سے جوڑ کر، پاک فوج ایک واضح پیغام دے رہی ہے: اپنی سرحدوں کی نگرانی میں کابل کی ناکامی کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے براہ راست اور یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ سفارتی دباؤ سے براہ راست فوجی مداخلت کی طرف یہ تبدیلی بیک چینل مذاکرات کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔
جانی نقصان کے حوالے سے بیانیہ کا تصادم بدستور تنازعہ کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 'پریسجن اسٹرائیکس' (درست نشانے والے حملوں) میں 29 شدت پسند مارے گئے اور کوئی سویلین نقصان نہیں ہوا، جبکہ طالبان حکام 36 سے زائد عام شہریوں کی ہلاکتوں اور 160 زخمیوں کے 'جرم اور مظالم' کا الزام لگاتے ہیں۔ BBC نوٹ کرتا ہے کہ حکومتِ پاکستان 29 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ Times of India طالبان کے ان دعوؤں کا حوالہ دیتا ہے کہ دوسرے حملے میں پکتیا میں ریسکیو ورکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ فرق انٹیلی جنس کے شدید خلا اور Durand Line کے سرحدی علاقے میں آزادانہ تصدیق کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئے ہیں۔ تاریخی طور پر اسلام آباد کو طالبان تحریک کا اہم حامی سمجھا جاتا تھا، تاہم افغان سرزمین کو اڈے کے طور پر استعمال کرنے والی Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) کے دوبارہ ابھرنے نے سابقہ اتحادیوں کو تلخ حریفوں میں بدل دیا ہے۔ Durand Line، جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں قائم کی گئی ایک 2640 کلومیٹر طویل سرحد ہے، ایک متنازعہ اور غیر محفوظ سرحد بنی ہوئی ہے جسے پاکستان کی باڑ لگانے کی کوششوں کے باوجود محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔
قبائلی ثالثی کے ذریعے ہونے والی متعدد جنگ بندیوں کے ناکام ہونے کے بعد 2022 سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں تیزی آئی ہے۔ یہ تازہ ترین حملے 2024 کے اوائل میں قائم ہونے والے ایک پیٹرن کی پیروی کرتے ہیں، جہاں پاکستان سرحدی صوبوں کے پہاڑی علاقوں میں زمینی نگرانی کے چیلنجوں کی وجہ سے اپنی فضائی برتری کا استعمال کر رہا ہے۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023 کا جنگ بندی کا معاہدہ اب غیر فعال ہو چکا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی جذبات باہمی بے اعتمادی اور شدید قوم پرستی کی خطرناک فضا کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام 'خودمختار دفاع' اور کراچی میں اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بدلے پر زور دیتے ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ ان حملوں کو 'جارحیت' کے خلاف ایک محافظ کے طور پر اپنی داخلی ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ 'حملہ اور جوابی کارروائی' کے اس سلسلے نے ماہرین کو دو پڑوسیوں کے درمیان مکمل جنگ کے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان نے 28 اور 29 جون 2026 کو افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائیاں کیں۔
- •یہ کارروائیاں 27 جون کو کراچی میں Sindh Rangers کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کی گئیں، جس میں پاکستان کے تین پیرا ملٹری اہلکار جان بحق ہوئے تھے۔
- •حکومتِ پاکستان نے سرکاری طور پر ان اہداف کی شناخت کالعدم Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) اور Jamaat-ul-Ahrar کے ٹھکانوں کے طور پر کی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔