ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan29 جون، 2026Fact Confidence: 75%

کراچی حملے کے بعد پاکستان کی افغانستان کے اندر 'انتقامی' فضائی کارروائی

پاکستان کا سرحد پار یہ فوجی اقدام طالبان کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات میں ایک نئے اور خطرناک باب کا اشارہ ہے، جہاں اسلام آباد نے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے 'پریسیشن ریٹریبیوشن' (صحیح نشانے پر انتقامی کارروائی) کا راستہ اپنایا ہے۔

AI Editor's Analysis
Pro-State NarrativeDisputed ClaimsSensationalized

This brief reflects the sharp divergence between Pakistani state claims of 'precision retribution' against militants and Taliban reports of civilian casualties; the tags reflect the nationalist rhetoric of regional sources and the lack of independent verification for casualty figures.

کراچی حملے کے بعد پاکستان کی افغانستان کے اندر 'انتقامی' فضائی کارروائی
"پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جو کہ ہماری اولین ترجیح ہے۔"
Attaullah Tarar (Pakistan Information Minister Attaullah Tarar explaining the rationale behind the cross-border strikes following the Karachi Rangers camp attack.)

تفصیلی جائزہ

یہ کشیدگی 'Azm-e-Istehkam' فریم ورک کے تحت پاکستان کے سیکیورٹی نظریے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جو دفاعی حکمتِ عملی سے اب سرحد پار براہ راست فوجی کارروائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ افغان صوبوں کو براہ راست نشانہ بنا کر، اسلام آباد طالبان کی 'سٹریٹجک ڈیپتھ' کے سفارتی پردے کو ختم کر رہا ہے اور کابل کو TTP اور جماعت الاحرار کی موجودگی کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ مقامی سطح پر بھی سیاسی حالات اہم ہیں؛ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہونے والے حملوں کے بعد حکومت کو اپنے انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت دکھانا ضروری ہے۔

ہلاکتوں کے بارے میں متضاد رپورٹس دونوں ہمسایوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہیں۔ کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے بھارت نواز نیٹ ورکس کے خلاف 'انتقامی کارروائی' تھے، جبکہ طالبان حکومت نے اسے عام شہریوں کے خلاف ایک 'بزدلانہ جرم' قرار دیا ہے۔ یہ بیانیہ بتاتا ہے کہ اکتوبر کا سیز فائر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان نے سرحد پار حملوں کو معمول بنا لیا، تو ایک بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا، خاص طور پر جب طالبان فوج نے احتجاجاً Durand Line پر بھاری ہتھیار تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

پس منظر اور تاریخ

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات محتاط تعاون سے کھلی دشمنی میں بدل چکے ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان طالبان کے زیرِ اثر افغانستان کو اپنی مغربی سرحد محفوظ بنانے اور بھارت کے خلاف 'سٹریٹجک ڈیپتھ' حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ تاہم، طالبان کا TTP کو ختم کرنے سے انکار، جس نے افغان سرزمین پر پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں، اس سٹریٹجک اثاثے کو سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا چکا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان میں شدت پسندانہ حملوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستانی ریاست نے TTP کو 'فتنة الخوارج' (Fitna al Khwarij) کا نام دیا ہے۔

2,640 کلومیٹر طویل Durand Line کی سرحد خود بھی ایک تاریخی تنازع رہی ہے۔ افغانستان نے کبھی بھی برطانوی دور کی کھینچی گئی اس سرحد کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، اور کئی دہائیوں سے یہاں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ 2025 کے سیز فائر کا حالیہ خاتمہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ تو بین الاقوامی ثالثی اور نہ ہی علاقائی دباؤ اسلام آباد کے سیکیورٹی مطالبات اور کابل کے خود مختاری کے اصرار کے درمیان صلح کروا سکا ہے۔

عوامی ردعمل

اس صورتحال میں شدید جیو پولیٹیکل تناؤ اور ایک دوسرے پر الزامات کا عنصر نمایاں ہے۔ پاکستان کا ریاستی میڈیا اور حکام ان حملوں کو شہید سپاہیوں کے لیے ایک ضروری اور جائز 'انتقامی کارروائی' کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، طالبان کا بیانیہ غصے سے بھرپور ہے اور وہ افغانستان کو بیرونی جارحیت کے شکار ملک کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ علاقائی رپورٹس میں خطرے اور بے چینی کا واضح احساس پایا جاتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 'خاموش سفارت کاری' کا دور ختم ہو چکا ہے۔

اہم حقائق

  • پاکستان کی فوج نے 29 جون 2026 کو فضائی اور زمینی آپریشن شروع کیا، جس میں افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا، اور کنڑ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ضلع باجوڑ میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
  • 'آپریشن غضب للحِق' کے نام سے یہ کارروائی 28 جون کو کراچی میں Sindh Rangers کے کیمپ پر ہونے والے خودکش حملے کا براہ راست جواب تھی، جس میں پیرامیلیٹری فورس کے تین اہلکار شہید ہوئے تھے۔
  • حکومت پاکستان نے کمانڈر خان فروش سمیت 29 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی، جبکہ طالبان حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں سویلین گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور 100 تک ہلاکتیں ہوئیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Paktika Province📍 Karachi📍 Bajaur

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan Conducts 'Retribution' Airstrikes Deep into Afghanistan After Karachi Attack - Haroof News | حروف