پاکستان کے آٹو سیکٹر کے قرضے ریکارڈ سطح پر، صارفین کی واپسی کے ساتھ ہی نئی تیزی
پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ میں کریڈٹ کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں صارفین شرح سود میں اضافے کو نظر انداز کرتے ہوئے نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 369 ارب روپے کا ریکارڈ سرمایہ لگا رہے ہیں۔
The brief accurately synthesizes data from a leading Pakistani English daily; the reporting leans towards market optimism by framing record debt as a sign of consumer confidence rather than systemic risk.

""عام طور پر بہت سے صارفین ہر دو سے تین سال بعد اپنی کاریں تبدیل کر لیتے ہیں، لیکن COVID-19 اور اس کے بعد معاشی سست روی کی وجہ سے یہ سلسلہ ٹوٹ گیا تھا۔""
تفصیلی جائزہ
آٹو فنانسنگ میں یہ تیزی پاکستانی صارفین کی ایک سوچ سمجھ کر کی گئی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جو حالیہ 11.5 فیصد پالیسی ریٹ میں اضافے کے باوجود موجودہ قرضوں کی شرح کے استحکام پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ قرض لینے کے اس جارحانہ رجحان کی وجہ گاڑیوں کی تبدیلی کے چکر میں ایک دہائی کی سب سے بڑی کمی ہے؛ وہ صارفین جنہوں نے COVID-19 کے بعد سے اپ گریڈ کو روکا ہوا تھا، اب مزید مہنگائی سے بچنے کے لیے اپنی بچتیں نکال رہے ہیں یا قرض کا سہارا لے رہے ہیں۔ اسمبلرز اور بینک بھی فری رجسٹریشن اور انشورنس جیسی مراعات پیش کر کے اس رفتار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مارکیٹ کے نقطہ نظر سے، یہ ایک "catch-up" ریلی ہے۔ اگرچہ انڈسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ خریدار پچھلے دو سالوں کے انتہائی زیادہ اخراجات کے مقابلے میں موجودہ شرحوں کے ساتھ مطمئن ہیں، لیکن اصل خطرہ اس قرض کے برقرار رہنے میں ہے۔ اگر State Bank نے افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا سخت رویہ جاری رکھا، تو 369 ارب روپے کے یہ قرضے صارفین کی قوت خرید پر بوجھ بن سکتے ہیں، جس سے اس شعبے میں جاری بحالی کا عمل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستانی آٹو سیکٹر نے 2020 کی دہائی کا ابتدائی حصہ مفلوج حالت میں گزارا، جس کی وجہ کرنسی کی قدر میں بڑی کمی، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور شرح سود کا بہت زیادہ ہونا تھا۔ کاروں کی تبدیلی کا روایتی تین سالہ چکر ٹوٹ چکا تھا کیونکہ متوسط طبقے کی قوت خرید ختم ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے مالکان کو اپنی پرانی گاڑیوں کو ہی طویل عرصے تک چلانے پر مجبور ہونا پڑا۔
موجودہ ریکارڈ جون 2022 کے پچھلے عروج سے بھی زیادہ ہے، یہ وہ وقت تھا جب معیشت ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کے دہانے پر تھی۔ 2026 کی یہ بحالی معیشت کی بقا کی جدوجہد سے نکل کر طلب کی بنیاد پر چلنے والی ترقی کی عکاس ہے، جہاں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے تعارف نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ شورومز کی طرف راغب کیا ہے، جس سے مارکیٹ روایتی انجنوں سے ہٹ کر متنوع ہو رہی ہے۔
عوامی ردعمل
مارکیٹ کی صورتحال پرامید لیکن محتا ہے۔ انڈسٹری کے شرکاء طلب میں اضافے کو حالات کی بہتری کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ 18 ماہ کی مسلسل ترقی مرکزی بینک کی سختی کے باوجود اس شعبے کی بحالی پر مضبوط ادارہ جاتی اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •مئی 2026 کے آخر تک پاکستان میں آٹو فنانسنگ 369.12 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو کہ سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد اضافہ ہے۔
- •گاڑیوں کے لیے واجب الادا قرضوں میں مسلسل 18 ماہ سے اضافہ ہو رہا ہے، جس نے جون 2022 میں قائم کردہ 368 ارب روپے کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
- •قرضوں میں یہ اضافہ اس وقت ہوا جب State Bank of Pakistan نے اپریل 2026 میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔