آپریشن شعبان: بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی بڑی کارروائی
دہشت گردوں کی ہلاکتیں سو سے تجاوز کرنے کے بعد، پاکستان کے حفاظتی اداروں نے بلوچستان میں اپنی کارروائیوں کو ایک نئے اور شدید مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یہ قدم مغربی سرحد پر ریاست کو خطرے میں ڈالنے والی شورش کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا واضح اشارہ ہے۔
This report primarily relies on figures and terminology provided by Pakistani state media and security officials, including unverified claims of foreign state sponsorship. While the sources agree on the aggregate casualty count, discrepancies exist in the reporting of individual incidents, necessitating a cautious interpretation of the state-driven narrative.

""بلوچستان میں یہ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔""
تفصیلی جائزہ
ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاحات، جیسے TTP کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ اور مقامی شدت پسندوں کے لیے ’فتنہ ہندوستان‘، ایک اسٹریٹجک بیانیے کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کا مقصد ان گروہوں کو مذہبی طور پر گمراہ یا غیر ملکی ایجنٹ ثابت کرنا ہے۔ داخلی عدم استحکام کو بیرونی عوامل سے جوڑ کر عسکری قیادت بلوچستان میں ’آل آؤٹ وار‘ کے لیے عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست اب مذاکرات کے بجائے فوجی حل کے ذریعے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور راہداریوں کو محفوظ کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار میں کچھ تضاد پایا جاتا ہے: ایک ذریعے کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں 23 مزید دہشت گرد مارے گئے ہیں، جبکہ دوسرا ذریعہ 16 کی اطلاع دیتا ہے، تاہم دونوں آپریشن کے آغاز سے اب تک کل 102 ہلاکتوں پر متفق ہیں۔ مزید برآں، ISPR کے مطابق بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے دہشت گرد اس تشدد کے ذمہ دار ہیں، جس کی New Delhi ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے۔ زمینی دستوں کے ساتھ فضائی حملوں کا بڑے پیمانے پر استعمال ظاہر کرتا ہے کہ فوج Zarghoon Gar کے پہاڑی علاقوں میں ٹھکانوں کو جلد از جلد تباہ کرنا چاہتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
بلوچستان طویل عرصے سے شورش کا شکار رہا ہے جہاں ایک طرف قوم پرست گروپ خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ CPEC کی وجہ سے اس خطے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے، جس سے یہ جیو پولیٹیکل مقابلے کا مرکز بن گیا ہے۔ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اس سے دہشت گردوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں ملیں۔
2025 کے آخر میں یہ تنازعہ ’آپریشن غضب للحتم‘ کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا، جس میں افغان سرحد پار دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حالیہ ’آپریشن شعبان‘ اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ زیارت میں 18 اغوا شدہ پولیس اہلکاروں کے بے رحمانہ قتل نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ ردعمل دے اور صوبے میں اپنی رٹ بحال کرے۔
عوامی ردعمل
عوام اور ریاست کے جذبات میں پولیس اہلکاروں کے قتل پر شدید غصہ اور سیکورٹی اداروں میں ایک پختہ عزم پایا جاتا ہے۔ تاہم، ادارتی لہجہ محتاط ہے، جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگرچہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں عسکری کامیابی ہے، لیکن بلوچستان میں شورش کی بنیادی وجوہات—جیسے معاشی محرومی اور سیاسی بیگانگی—اب بھی حل طلب ہیں۔ ریاست کے اندر اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے کہ اپنے سب سے حساس صوبے کو مکمل بدامنی سے کیسے بچایا جائے۔
اہم حقائق
- •پاکستانی سیکورٹی فورسز نے 5 جولائی سے 11 جولائی 2026 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 102 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔
- •آپریشن شعبان کا آغاز زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس پوسٹ پر ہونے والے بڑے حملے کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔
- •ان جاری کارروائیوں میں پاک فوج، Frontier Corps اور بلوچستان پولیس کی جانب سے فضائی اور زمینی قوت کا مشترکہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔