بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر، پاکستانی فوج نے جانی نقصان کی تصدیق کر دی
بلوچستان کے پہاڑ ایک بار پھر خون سے رنگ گئے ہیں۔ پاکستانی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ شدت پسندوں کے حالیہ حملوں اور دراندازی کو روکنے کی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
This brief reflects the official narrative of the Pakistani military and state-aligned media outlets, utilizing specific government terminology like 'Fitna al-Khawarij' and adopting the state's framing of militant groups as foreign proxies.

"جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے گرد گھیرا مکمل طور پر تنگ ہو چکا ہے، تو ان بزدلوں اور کم ظرفوں نے بلوچستان کے 18 بہادر جوانوں کو شہید کر دیا۔"
تفصیلی جائزہ
ان حملوں کی شدت اور خاص طور پر زیارت میں 18 مغویوں کی شہادت دہشت گردوں کی بدلتی ہوئی خطرناک حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ مانگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 اور پولیس چوکیوں کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرنے کی کوشش ہے کہ ریاست کے حساس علاقوں میں اب بھی سیکیورٹی کے حوالے سے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ زیارت آپریشن میں 'Collateral Damage' سے بچنے کے لیے فضائی قوت کا استعمال نہ کرنا ان آپریشنل مشکلات کو واضح کرتا ہے جہاں دہشت گرد انسانی ڈھال کا استعمال کرتے ہیں۔
جیو نیوز اور ڈان نیوز کے مطابق، پاک فوج ان گروپوں کو 'انڈین پراکسیز' قرار دیتی ہے۔ اگرچہ پاکستان مسلسل TTP (جسے اب سرکاری طور پر 'فتنہ الخوارج' کہا جاتا ہے) کے غیر ملکی روابط کا ذکر کرتا ہے، لیکن اصل چیلنج مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر خطے کے ترقیاتی منصوبوں اور پاک فوج کے نئے انسدادِ دہشت گردی فریم ورک کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
پس منظر اور تاریخ
بلوچستان طویل عرصے سے نسلی علیحدگی پسند تحریکوں اور TTP جیسے شدت پسند گروہوں کی وجہ سے شورش کا شکار رہا ہے۔ پچھلی دہائی میں یہاں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ صوبہ CPEC کا مرکز ہے، جو اسے ملک کی معیشت اور سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے ایک بڑا ہدف بناتا ہے۔
'فتنہ الخوارج' کی اصطلاح حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے TTP کو نظریاتی طور پر غیر مستند ثابت کرنے کے لیے اپنائی ہے۔ یہ تبدیلی ناکام امن مذاکرات اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دوبارہ فوجی آپریشنز کے آغاز کے بعد آئی ہے، جہاں پاک فوج کے مطابق ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
عوامی ردعمل
فوجی بریفنگ کا لہجہ افسردہ مگر پرعزم ہے، جس میں مقامی لوگوں اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا گیا ہے اور دہشت گردوں کو 'بزدل' قرار دیا گیا ہے۔ عوامی سطح پر دکھ اور افسوس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر بھی تشویش پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے زیارت اور ہنہ اورک جیسے علاقوں میں اتنے بڑے پیمانے پر مربوط حملے ممکن ہوئے۔
اہم حقائق
- •ڈی جی ISPR لیفٹیننٹ جنرل Ahmed Sharif Chaudhry نے تصدیق کی کہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں تین بڑے واقعات میں 38 سیکیورٹی اہلکار اور 4 عام شہری شہید ہوئے۔
- •پاک فوج کے کلیئرنس آپریشنز میں 'فتنہ الخوارج' (TTP) کے کل 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
- •ضلع زیارت میں دہشت گردوں نے پولیس کے 18 اہلکاروں کو اغوا کیا اور جب سیکیورٹی فورسز نے ان کا گھیرا تنگ کیا تو انہیں شہید کر دیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔