ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy27 مئی، 2026Fact Confidence: 85%

پاکستان کی کپاس کی ڈوبتی ہوئی صنعت کو بچانے کے لیے Biotech پر بڑی شرط

جیسے جیسے پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر کپاس کی تاریخی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو رہا ہے، ریاست زرعی دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں (GM crops) کی جانب ایک بڑا قدم اٹھا رہی ہے۔

AI Editor's Analysis
Pro-State LeaningFact-Based

This report incorporates official state narratives regarding agricultural policy and the role of the Special Investment Facilitation Council (SIFC), while including specific historical production data to ground the economic claims.

پاکستان کی کپاس کی ڈوبتی ہوئی صنعت کو بچانے کے لیے Biotech پر بڑی شرط
""اس کی بنیادی وجہ ایک واضح اور متحد اسٹریٹجک سمت کا فقدان تھا۔""
Ministry of National Food Security and Research (The Ministry of National Food Security explains why previous efforts to modernize agriculture failed despite existing expertise.)

تفصیلی جائزہ

یہ اقدام پاکستان کے سب سے اہم ایکسپورٹ سیکٹر کو بچانے کا ایک مشن ہے، جو 1 کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کی کمی کی وجہ سے سرمائے کے نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) فصلوں کی سمت کو مرکزی دھارے میں لا کر، حکومت ٹیکسٹائل کے بڑے اداروں کے لیے خام مال کی سپلائی لائن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مارکیٹ کے نقطہ نظر سے، یہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کی ایک کوشش ہے جو فی الحال ملوں کو چلانے کے لیے کپاس درآمد کرنے پر خرچ ہو رہے ہیں۔

یہ تبدیلی Special Investment Facilitation Council (SIFC) کے اثر و رسوخ کے تحت ایک اہم پالیسی شفٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں سائنسی مہارت موجود ہے، وہیں یہ بھی دیکھا گیا کہ پچھلی PML-N حکومتوں کو کسانوں کے مقابلے میں 'صنعت کار نواز' سمجھا جاتا تھا۔ نئی پالیسی اس فرق کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس میں زراعت کو ایک روایتی شعبے کے بجائے ہائی ٹیک انویسٹمنٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان کی زرعی تاریخ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جہاں کپاس کی پیداوار 1.2 سے 1.5 کروڑ گانٹھوں سے گر کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کمی کی وجہ ٹیکنالوجی کی کمی اور بکھری ہوئی پالیسیوں کو قرار دیا جاتا ہے، جیسے کہ 2011 اور 2018 کی پالیسیاں جو بائیوٹیک کے لیے کوئی متحد راستہ بنانے میں ناکام رہیں۔

2023 میں SIFC کا قیام پاکستان کی گورننس میں ایک ساختی تبدیلی تھی، جس کا مقصد سول اور ملٹری لائنز کے درمیان معاشی فیصلوں کو ہموار کرنا تھا۔ NABP 2025 اسی مرکزی کوشش کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد 'Pakistan Vision 2030' کے جدید کاری کے اہداف کو اس شعبے میں نافذ کرنا ہے جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

عوامی ردعمل

جذبات میں ایک عملی فوری ضرورت جھلکتی ہے، جو ایسی حکومت کی عکاسی کرتی ہے جو سمجھتی ہے کہ اس کے روایتی زرعی طریقے اب معاشی طور پر سودمند نہیں رہے۔ ٹیکسٹائل سپلائی چین کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ہائی ٹیک مداخلت کی ضرورت پر واضح توجہ دی گئی ہے۔

اہم حقائق

  • وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے تین سالہ National Agricultural Biotechnology Policy (NABP) 2025 کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
  • پاکستان میں کپاس کی پیداوار حال ہی میں 40 سال کی کم ترین سطح یعنی 50 لاکھ گانٹھوں تک گر گئی ہے، جو کہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی سالانہ 1 کروڑ 60 لاکھ گانٹھوں کی ضرورت سے کہیں کم ہے۔
  • یہ پالیسی 2023 میں Special Investment Facilitation Council (SIFC) کی اس ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد مقامی فارمنگ کو بین الاقوامی جینیاتی انجینئرنگ کے معیار کے مطابق بنانا ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔