پاکستان کا بائیوٹیک پیوٹ: ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کے لیے ایک اسٹریٹجک داؤ
کپاس کی پیداوار میں بدترین کمی کے بعد، اسلام آباد نے لیبارٹری سائنس اور زراعت کو جوڑنے کے لیے اپنا سب سے اہم کارڈ کھیل دیا ہے۔
This brief reflects official government policy announcements and industrial data from a leading regional publication, incorporating standard local analysis regarding the historical policy tensions between the textile industry and the agricultural sector.

"فوڈ منسٹری کے مطابق، پاکستان زرعی بائیوٹیکنالوجی کے مواقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا، جس کی سب سے بڑی وجہ ایک واضح اور متحد اسٹریٹجک سمت کا فقدان تھا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ پالیسی ملکی معیشت کے لیے بقا کا مسئلہ ہے۔ GM فصلوں کو قانونی شکل دے کر حکومت 11 ملین گانٹھوں کے اس بڑے خسارے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے قیمتی زرمبادلہ درآمدات پر خرچ ہوتا ہے۔ Special Investment Facilitation Council (SIFC) کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف فوڈ سیکیورٹی نہیں بلکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کی ایک کوشش ہے۔
تاہم، یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں ہے۔ ریسرچ کے بکھرے ہوئے ہونے کی وجہ سے ماضی میں نتائج ناقص رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نیا ریگولیٹری فریم ورک ان ہائی ٹیک حلوں کو نچلی سطح پر نافذ کر سکے گا اس سے پہلے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری خام مال کے لیے کہیں اور دیکھنا شروع کر دے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کی زراعت کی تنزلی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1960 کی دہائی کے 'گرین ریولوشن' کے بعد ریسرچ جمود کا شکار ہو گئی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے مطابق فصلیں تیار نہیں کی جا سکیں۔ کپاس کا شعبہ اپنی تاریخی پیداوار سے آدھا رہ گیا ہے۔
سیاسی ترجیحات نے بھی اس جمود میں کردار ادا کیا کیونکہ ماضی کی حکومتوں پر کسانوں کے بجائے صنعت کاروں کو نوازنے کا الزام رہا ہے۔ اب یہ پالیسی ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، کیونکہ صنعت کی بقا اب براہ راست پنجاب اور سندھ کے کھیتوں سے جڑ چکی ہے۔
عوامی ردعمل
تبصروں میں محتاط امید اور صورتحال کی سنگینی کا احساس پایا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے تحقیقی مراکز میں مہارت موجود ہے، لیکن اصل شک و شبہ اس بات پر ہے کہ کیا دہائیوں کی سیاسی غفلت اور ناقص عملدرآمد کو ختم کیا جا سکے گا یا نہیں۔
اہم حقائق
- •وفاقی کابینہ نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) فصلوں کے فروغ کے لیے National Agricultural Biotechnology Policy (NABP) 2025 کی منظوری دے دی ہے۔
- •پاکستان میں کپاس کی پیداوار حال ہی میں کم ہو کر 5 ملین گانٹھوں (bales) تک رہ گئی ہے، جو 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔
- •ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو اپنی صنعتی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے سالانہ تقریباً 16 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔