پاکستان کا 2026-27 کا بجٹ: معاشی سختی کے درمیان زراعت کا بحران مزید سنگین
جب اسلام آباد 2026-27 کے مالیاتی منصوبے کی تیاری کر رہا ہے، پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی—یعنی کسان—بڑھتی ہوئی لاگت اور حکومت کی سبسڈی ختم کرنے کی تلخ حقیقت کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
This synthesis is based on reporting from Dawn, a prominent Pakistani daily, reflecting the domestic concerns of the agricultural sector against the backdrop of IMF-led fiscal reforms. The analysis highlights a recurring tension in Pakistani political economy between the urban fiscal requirements and rural agrarian sustainability.
"کساں بڑھتے ہوئے خوف اور گھٹتی ہوئی امیدوں کے ساتھ بجٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
2026-27 کا بجٹ ایک ایسے نازک موڑ پر آ رہا ہے جہاں ریاست کو IMF کے مطالبات اور دیہاتی معیشت کی بقا کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔ Agricultural income کو tax net میں شامل کرنے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جس کا مطالبہ شہری مڈل کلاس کرتی ہے لیکن پارلیمنٹ میں موجود ایلیٹ طبقہ ہمیشہ اسے روکتا آیا ہے۔ موجودہ کشیدگی یہ اشارہ دیتی ہے کہ حکومت کو کسانوں کی خوشحالی یا قرض کی ادائیگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔
اسٹیک ہولڈرز کے 'خوف' کا تعلق خاص طور پر ٹیوب ویل کی بجلی اور امپورٹڈ fertilizers کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہے، جو گندم اور کپاس جیسی فصلوں کی مارکیٹ پرائس سے کہیں آگے نکل چکی ہیں۔ جہاں انڈسٹری کے ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مزید ٹیکس لگانے سے food security تباہ ہو جائے گی، وہیں معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ انفلیشن کے اس دور میں بغیر ٹیکس والی زرعی دولت کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا زراعت کا شعبہ 1960 کی 'Green Revolution' کے ترقی یافتہ دور سے نکل کر اب ڈھانچے کی تباہی اور کلائمیٹ چینج کی زد میں آ چکا ہے۔ کئی دہائیوں تک اس شعبے کو پانی، بجلی اور کھاد پر ملنے والی بھاری سبسڈیز کے ذریعے چلایا گیا، جس نے ایک ایسی انحصاری پیدا کر دی ہے جسے اب موجودہ معاشی بحران ختم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
2022 کے سیلابوں نے ان دراڑوں کو مزید گہرا کر دیا، اربوں روپے کا سرمایہ ڈوب گیا اور چھوٹے کسان ریکارڈ قرض کے بوجھ تلے دب گئے۔ پچھلے بجٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس شعبے کو سدھارنے کی کوشش کی گئی، لیکن سیاسی عدم استحکام اور بار بار آنے والے balance-of-payments بحران کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام رہیں۔
عوامی ردعمل
غالب تاثر گہری تشویش اور مایوسی کا ہے۔ ایڈیٹوریل تجزیہ اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے بجٹ سے چھوٹے کسانوں کو کوئی خاص ریلیف ملنے کی امید نہیں ہے، کیونکہ حکومت کا سارا دھیان macro-economic targets پورے کرنے پر ہے جو کسانوں کے بجائے ریاست کے قرض خواہوں کے حق میں ہیں۔
اہم حقائق
- •وفاقی حکومت 2026-27 کے مالی سال کے لیے قومی بجٹ کو حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہے۔
- •زراعت سے وابستہ لوگ آنے والے سال کے لیے taxation اور energy subsidy کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کر رہے ہیں۔
- •یہ شعبہ پاکستان میں روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ اور ملکی GDP کا بنیادی ستون ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔