ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan12 جون، 2026Fact Confidence: 95%

پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18.8 ٹریلین روپے کا اصلاحات پر مبنی بجٹ پیش کر دیا

وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے ایک اہم مالیاتی روڈ میپ پیش کیا ہے جس میں ملک کی بقا کا دارومدار جارحانہ نجکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت میں ہونے والی ترقی پر رکھا گیا ہے۔

AI Editor's Analysis
Pro-State LeaningFact-Based

This brief is primarily constructed from official government projections and figures presented during the federal budget announcement, which naturally highlights state objectives and economic optimism.

پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18.8 ٹریلین روپے کا اصلاحات پر مبنی بجٹ پیش کر دیا
""پرائیویٹ سیکٹر ہی اس ملک کی قیادت کرے گا۔""
Muhammad Aurangzeb (Addressing the National Assembly during the presentation of the federal budget for the fiscal year 2026-27.)

تفصیلی جائزہ

27-2026 کا بجٹ طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ حکومت تیزی سے سرکاری اثاثوں کی نجکاری کر رہی ہے، جیسا کہ 2025 کے آخر میں Pakistan International Airlines (PIA) کی 185 ارب روپے میں کامیاب فروخت ہوئی۔ اس اقدام کا مقصد بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں جیسے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (SOEs) کا بوجھ نجی سرمایہ کاروں پر منتقل کر کے مالیاتی خسارے (fiscal deficit) کو کم کرنا ہے، جو اس وقت جی ڈی پی کا 3.6 فیصد متوقع ہے۔

اگرچہ حکومت 4 فیصد شرح نمو اور مہنگائی میں 8.2 فیصد تک کمی کی پیش گوئی کر رہی ہے، لیکن اس بحالی کے پائیدار ہونے پر کافی بحث جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگرچہ انتظامیہ اسے 'ترقیاتی' بجٹ قرار دے رہی ہے، لیکن 8 ٹریلین روپے کی بھاری قرض ادائیگی اور 15 ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف ظاہر کرتا ہے کہ مڈل کلاس اور صنعتی شعبہ عالمی قرض دہندگان (IMF وغیرہ) کی شرائط کے مطابق استحکام کے اقدامات کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔

پس منظر اور تاریخ

گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کی معیشت اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران (balance-of-payments crisis) اور IMF پروگراموں پر بار بار انحصار ہے۔ 2023 تک ملک کو اب تک کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے، جو بمشکل چند ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

موجودہ بجٹ تین سالہ استحکام کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو 2024 کے انتخابات کے بعد بننے والی انتظامیہ کے تحت شروع ہوئیں۔ اس دور میں ملک نے یورو بانڈز (Eurobonds) اور اپنے پہلے پانڈا بانڈ (Panda Bond) کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں میں واپسی کی، جس کا مقصد ہنگامی قرضوں کے بجائے طویل مدتی قرضوں کا انتظام کرنا اور ذخائر کو موجودہ 17 ارب ڈالر کی سطح تک دوبارہ بحال کرنا تھا۔

عوامی ردعمل

بڑے میڈیا ہاؤسز کا مجموعی تاثر محتاط شکوک و شبہات پر مبنی ہے کہ کیا حکومت عوام کو مزید نچوڑے بغیر اپنے ٹیکس اور ترقی کے اہداف پورے کر سکے گی۔ اگرچہ کاروباری طبقے نے نجکاری اور عالمی منڈیوں میں واپسی کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن یہ شدید تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کی بلند لاگت پبلک سیکٹر کی ترقی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی۔

اہم حقائق

  • وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18,771 ارب روپے کے مجموعی اخراجات کی تجویز دی ہے، جس میں جی ڈی پی (GDP) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔
  • قرضوں کی ادائیگی (Debt servicing) بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہے جس کے لیے 8,054 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کل وفاقی اخراجات کا تقریباً 43 فیصد ہے۔
  • فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ٹیکس وصولی کا ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ تین سالہ دورانیے کے 13 ٹریلین روپے سے زائد ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan Unveils Rs18.8 Trillion Reform-Heavy Budget for FY 2026-27 - Haroof News | حروف