اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر پاکستان اور چین کا عالمی نظام کو چیلنج
ایک سوچی سمجھی سفارتی مہم کے دوران، پاکستان اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ اس کے اپنے مینڈیٹ کو نافذ کرنے میں ناکامی کی طرف مبذول کرائی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ قراردادوں پر منتخب بنیادوں پر عملدرآمد بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔
This brief reflects a specific regional diplomatic agenda as it relies on Pakistani source material focusing on the state's strategic interests regarding Kashmir and international law.

"قراردادوں پر منتخب یا طویل عرصے تک عملدرآمد نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے، حل طلب تنازعات کو طول دیتا ہے اور انسانی تکالیف کو مزید گہرا کرتا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ اقدام اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان ایک تزویراتی ہم آہنگی (strategic alignment) کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ مغربی طاقتوں پر 'منتخب نفاذ' کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا سکے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو محض تجاویز کے بجائے UN Charter کے تحت سخت قانونی ذمہ داریوں کے طور پر پیش کر کے، پاکستان عالمی سطح پر کشمیر کے جمود کا شکار مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 'نفاذ کے خلا' پر توجہ مرکوز کرنا دراصل سلامتی کونسل کی ان کی اپنی قراردادوں کو نافذ کرنے میں ناکامی پر براہ راست تنقید ہے، خاص طور پر جب وہ بڑی طاقتوں یا ان کے اتحادیوں کے مفادات سے متصادم ہوں۔
اگرچہ اس مہم میں انسانی نقصانات اور قانونی ذمہ داریوں پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن وسیع تر جغرافیائی سیاسی حقیقت اداروں کی قانونی حیثیت (institutional legitimacy) کی جنگ ہے۔ چین کی حمایت پاکستان کو وہ سفارتی طاقت فراہم کرتی ہے جس سے وہ موجودہ صورتحال (status quo) کو چیلنج کر سکے اور مختلف عالمی تھیٹرز میں قراردادوں کے نفاذ میں پائے جانے والے دوہرے معیار کو بے نقاب کر سکے۔
پس منظر اور تاریخ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر کے تنازعے پر متعدد قراردادیں منظور کی ہیں، جن میں سب سے نمایاں 1948 کی قرارداد نمبر 47 ہے جس میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح 1967 سے فلسطینی علاقوں اور ریاست کے قیام کے بارے میں درجنوں قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں۔ تاہم، Chapter VI کی قراردادوں میں نفاذ کے طریقہ کار کی کمی اور Chapter VII کے معاملات میں مستقل ارکان کے ویٹو کے کثرت سے استعمال نے دہائیوں سے قانونی اور سیاسی جمود پیدا کر رکھا ہے۔
گزشتہ برسوں میں 'Arria-formula' میٹنگ کونسل کے اراکین کے لیے ایک غیر رسمی راستے کے طور پر ابھری ہے جہاں وہ حساس موضوعات پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے تاریخی طور پر ایسے فورمز کو مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی ایجنڈے پر رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے، خاص طور پر 2019 میں خطے کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے جب بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات منجمد ہیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ بین الاقوامی سستی اور عالمی طاقتوں کی مبینہ منافقت پر شدید مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں نظام میں اصلاحات کا ایک واضح مطالبہ ہے، جو گلوبل ساؤتھ (Global South) کے ان ممالک کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا موجودہ ڈھانچہ صرف طاقتور ریاستوں کے حق میں ہے جبکہ دہائیوں پرانے تنازعات کو قانونی خلا میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کونسل کے فیصلوں کے نفاذ کی کمی کو دور کرنے کے لیے 'Bridging the Implementation Gap' کے عنوان سے ایک Arria-formula میٹنگ کی مشترکہ میزبانی کی۔
- •اس میٹنگ میں جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) اور فلسطین (Palestine) کے دیرینہ تنازعات پر قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا گیا۔
- •سفیر عاصم افتخار احمد (Asim Iftikhar Ahmad) نے سلامتی کونسل کی ان تمام قراردادوں کے لیے ایک سالانہ جائزہ میکانزم بنانے کی تجویز دی جن پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔