تباہ کن طوفان اور انفراسٹرکچر کی ناکامی، پاکستان کے کئی حصے مفلوج
پاکستان کے وسطی علاقوں میں شدید ژالہ باری اور موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت نے بجلی کے گرڈ اسٹیشنز کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کلائمیٹ کرائسز (Climate Crisis) کی بڑھتی ہوئی شدت سے نمٹنے کے لیے تاحال تیار نہیں ہے۔
The draft accurately synthesizes a discrepancy between sources where one focuses on a lethal disaster while the other highlights 'pleasant' weather, revealing a class-based urban reporting bias.

"ڈسپوزل اسٹیشنز پر تمام پمپس کو آپریشنل رکھنے اور اسکرینز کو صاف رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ تمام ٹاؤن ڈائریکٹرز کو اپنے اپنے علاقوں کی مکمل مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
علاقائی رپورٹس میں تضاد سے تباہی کی کوریج میں طبقاتی اور جغرافیائی فرق واضح ہوتا ہے۔ Dawn نیوز دو صوبوں میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو ایک بھیانک آفت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ The Express Tribune اسے شہری نقطہ نظر سے دیکھتے ہوئے لاہور کے موسم کو 'خوشگوار' قرار دے رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں شہر گرمی سے ریلیف پر توجہ دے رہے ہیں، وہیں دیہی علاقے بغیر کسی حفاظتی ڈھانچے کے طوفان کی شدت برداشت کر رہے ہیں۔
عارضی بارش کے دوران LESCO کے 65 فیڈرز کا بیٹھ جانا پاکستان کے انرجی انفراسٹرکچر کی دائمی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ WASA جیسے اداروں نے سڑکیں صاف رکھنے کے لیے ہنگامی پروٹوکول فعال کیے، لیکن معمولی موسمی تبدیلی پر بجلی کے نظام کا ناکام ہونا ایک بڑی پالیسی کی ناکامی ہے۔ شدید گرمی سے اچانک ژالہ باری کا یہ بدلتا ہوا پیٹرن اب معمول بنتا جا رہا ہے، لیکن ریاست کا ردعمل اب بھی محض وقتی ہے نہ کہ قومی سطح پر پیشگی منصوبہ بندی۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان تاریخی طور پر کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جس کی تصدیق 2022 کے تباہ کن سیلاب سے ہوئی جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا تھا۔ حالیہ ژالہ باری اور شدید بارشیں جنوبی ایشیا میں موسموں کے بدلتے ہوئے انداز کا حصہ ہیں، جہاں مون سون اب غیر یقینی ہو چکا ہے اور ہیٹ برسٹس کے بعد اچانک شدید طوفان آتے ہیں۔
لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کا انفراسٹرکچر پرانے موسمی چکر کے مطابق بنایا گیا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ نیشنل گرڈ اور نکاسی آب کے نظام میں دہائیوں سے جاری کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ملکی معیشت اب خطرے میں ہے، جہاں درجہ حرارت اور بارش میں تھوڑی سی تبدیلی بھی بجلی اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل مفلوج کر دیتی ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی جذبات انفراسٹرکچر کی تباہی سے جڑی ایک جانی پہچانی تھکن کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ گرمی سے نجات پر عوامی سطح پر تھوڑی راحت محسوس کی گئی، لیکن ہلاکتوں کی خبروں اور بجلی کی بندش نے اسے ماند کر دیا۔ حکومت کے 'صاف سڑکوں' کے دعووں اور پہلی ہی بارش میں جواب دے جانے والے کمزور بجلی کے نظام کی حقیقت کے درمیان ایک واضح تناؤ پایا جاتا ہے۔
اہم حقائق
- •خیبر پختونخوا اور پنجاب میں شدید بارشوں اور ژالہ باری کے باعث کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
- •لاہور کے Nishtar Town میں ایک ہی اسپیل کے دوران سب سے زیادہ 48.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
- •Lahore Electric Supply Company (LESCO) کے مطابق 65 پاور فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کے بڑے حصے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔