علاقائی جغرافیائی سیاست اور انفراسٹرکچر کی ناکامیوں کے باعث پاکستان کے پاور سیکٹر میں بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی ہلچل اور ملکی نظام کی ناکامیوں کے گٹھ جوڑ نے ایک بار پھر پاکستانی صارفین کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جہاں انہیں ایک ایسے پاور سیکٹر کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے جو عالمی اتار چڑھاؤ کے سامنے بالکل بے بس ہے۔
The report accurately synthesizes technical regulatory filings while providing a critical analysis of domestic infrastructure failures. It appropriately attributes claims regarding the impact of the US-Iran conflict on LNG supplies to Pakistani state officials rather than presenting them as verified international facts.

"اپریل کے لیے ایندھن کی ریفرنس قیمت 8.25 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی، لیکن اصل قیمت 9.975 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی... جس کی بنیادی وجہ US-Iran تنازع کی وجہ سے LNG کی سپلائی میں آنے والا خلل ہے۔"
تفصیلی جائزہ
بجلی کی قیمتوں میں یہ حالیہ اضافہ پاکستان کے درآمدی LNG پر حد سے زیادہ انحصار کا نتیجہ ہے، جو US-Iran تنازع کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی کی پیداوار محدود کر کے اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن سندھ سے شمالی علاقوں تک سستی بجلی پہنچانے میں انفراسٹرکچر کی رکاوٹیں بدستور قائم ہیں۔ K-2 نیوکلیئر پلانٹ کی عدم دستیابی نے بھی ملکی توانائی کی پیداوار کو توقع سے زیادہ مہنگا بنا دیا ہے۔
پاور سیکٹر کی صورتحال جغرافیائی سیاسی کشمکش اور اندرونی بدانتظامی کے درمیان پھنسی ہوئی ریاست کی عکاسی کرتی ہے۔ 'خصوصی LNG درآمدی انتظامات' پر حکومت کا انحصار گردشی قرضوں (circular debt) کے بحران کا مستقل حل نہیں بلکہ صرف ایک وقتی مرہم ہے۔ جہاں CPPA بیرونی تنازعات اور تکنیکی خرابیوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، وہیں حقیقت یہ ہے کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک پرانا ہونے کی وجہ سے سستی بجلی کے ذرائع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا اور بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا پاور سیکٹر گزشتہ دو دہائیوں سے 'گردشی قرضوں' (circular debt) کے بحران میں جکڑا ہوا ہے، جس کی وجہ بجلی کی پیداواری لاگت اور وصول ہونے والی رقم میں فرق ہے۔ اس صورتحال نے ہر آنے والی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ پن بجلی یا مقامی کوئلے کے بجائے درآمدی ایندھن جیسے LNG پر مبنی مہنگے تھرمل پاور پراجیکٹس پر انحصار کرے، جس سے ملکی معیشت مشرق وسطیٰ کی بے یقینی کے سامنے کمزور ہو جاتی ہے۔
فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کا طریقہ کار عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو براہ راست صارف تک منتقل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اگرچہ اس سے سرکاری اداروں کو مالی مدد ملتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے ماہانہ بلوں میں ہونے والے بڑے اور غیر متوقع اضافے نے صنعتی ترقی کو روک دیا ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
عوامی ردعمل
اداریہ میں مایوسی اور بڑھتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ میڈیا کوریج میں قیمتوں میں اس اضافے کو ایک ناگزیر لیکن کمر توڑ بوجھ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی کوششوں کے باوجود عوام علاقائی جنگوں اور ملکی تکنیکی ناکامیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •CPPA نے اپریل 2026 میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 1.74 روپے اضافے کی درخواست کی ہے۔
- •اگر NEPRA نے اسے منظور کر لیا تو پاکستانی صارفین پر 16 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
- •اپریل کے لیے ایندھن کی اصل قیمت 9.975 روپے فی یونٹ رہی، جو حکومت کی مقرر کردہ ریفرنس قیمت 8.25 روپے سے تقریباً 21 فیصد زیادہ ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔