رات کی لوڈشیڈنگ سے بجلی کے بلوں میں کمی آئی ہے، اویس لغاری
بجلی کے بڑھتے بلوں سے پریشان عوام کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی ایک بڑی خبر ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے حالیہ لوڈشیڈنگ کو عوام کی قربانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کو روکنے میں مدد ملی۔
This report relies exclusively on a single statement from the Pakistani Energy Minister via ARY News, reflecting a government narrative that frames power outages as a strategic success. The analytical tag is applied as the brief correctly identifies the minister's claims as unverified by independent third-party auditors.

"فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا کریڈٹ عوام کو جاتا ہے جنہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور رات کے وقت چند گھنٹوں کی لوڈ مینجمنٹ برداشت کی۔"
تفصیلی جائزہ
ARY News کے مطابق حکومت کا دعویٰ ہے کہ رات کی 'لوڈ مینجمنٹ' سے قومی خزانے کے تقریباً 10 ارب روپے بچائے گئے۔ وزیر کے مطابق اگر یہ بلیک آؤٹ نہ کیے جاتے تو حکومت کو مہنگی گیس خریدنی پڑتی جس کا بوجھ عوام پر پڑتا۔ تاہم آزاد ماہرین نے ابھی اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یہ حکمت عملی پاور ڈویژن کی اس مشکل صورتحال کو ظاہر کرتی ہے جہاں انہیں لوڈشیڈنگ کی سیاسی قیمت اور مہنگی بجلی کے معاشی بوجھ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ حکومت 'عوام کے تعاون' کا نام لے کر لوڈشیڈنگ پر غم و غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں (circular debt) کے بحران کا شکار ہے جس کی بڑی وجوہات لائن لاسز اور مہنگا درآمدی ایندھن ہیں۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارج (FAC) ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست صارف تک منتقل کیا جاتا ہے، جو اکثر عوامی احتجاج کا سبب بنتا ہے۔
عوامی ردعمل
وزیر توانائی کا لہجہ دفاعی ہونے کے ساتھ ساتھ شکر گزاری والا ہے، جہاں وہ عالمی دباؤ کے باوجود حکومت کو متحرک دکھانے اور ان حالات کا ذمہ دار عالمی مارکیٹ کو قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •ARY News کے مطابق اگست کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ جولائی کے 2.05 روپے سے کم ہو کر 1.73 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے۔
- •اگست میں بجلی کی کل پیداوار کا 72 فیصد مقامی وسائل سے حاصل کیا گیا جس سے درآمدی کوئلے اور RLNG پر انحصار کم ہوا۔
- •آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں 23 سے 25 ڈالر فی MMBTU تک پہنچ گئی تھیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔