پاکستان کا انرجی کمپنیوں کو IFRS سے استثنیٰ دے کر مالی شفافیت سے بچانے کا فیصلہ
3.4 ٹریلین روپے کا مالیاتی خسارہ چھپانے کے لیے، پاکستان عالمی مالیاتی شفافیت کے قوانین کو معطل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنے بڑے انرجی اداروں کو تکنیکی تباہی سے بچایا جا سکے۔
This report synthesizes specific fiscal data and internal government reports regarding Pakistan's energy debt. It is tagged as 'Critical-Analytical' because it highlights the friction between the Petroleum Ministry's survival tactics and the Finance Ministry's transparency concerns.

"International Financial Reporting Standards (IFRS) 9 اور 14 سے استثنیٰ نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی یہ SOEs Act 2023 کے تحت اصلاحات کے رخ کے مطابق ہے۔"
تفصیلی جائزہ
حکومت کا یہ اقدام اپنے بڑے انرجی اثاثوں کی ساکھ (creditworthiness) بچانے کی ایک کوشش ہے۔ IFRS 9 اور 14 کو نظر انداز کر کے، حکام SNGPL اور SSGCL کی بیلنس شیٹس کو بڑے مالی نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اس سے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کی حالت بہتر نظر آئے گی، لیکن یہ ایک 'خفیہ خسارہ' (shadow deficit) پیدا کر رہا ہے جس پر وزارتِ خزانہ کے اپنے مانیٹرنگ یونٹ نے خبردار کیا ہے۔
حکومت اور IMF کے درمیان کھچاؤ اس مسئلے کے مستقل حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اطلاعات کے مطابق IMF نے تاحال حکومت کے 1.5 ٹریلین روپے کے سیٹلمنٹ پلان کو منظور نہیں کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا دعویٰ ہے کہ یہ استثنیٰ حکومتی یقین دہانیوں کی وجہ سے جائز ہے، لیکن وزارتِ خزانہ کی اندرونی مخالفت ایک گہری دراڑ کو ظاہر کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کے انرجی سیکٹر میں 'گردشی قرضہ' (circular debt) ایک دہائیوں پرانا ڈھانچہ جاتی بحران ہے جو سبسڈیز، لائن لاسز اور ریکوری کی خراب صورتحال کی وجہ سے پیدا ہوا۔ یہ اب ایک ایسا خطرہ بن چکا ہے جہاں حکومت، بجلی گھر اور ایندھن فراہم کرنے والے سب ایک دوسرے کے مقروض ہیں لیکن کسی کے پاس ادائیگی کے لیے نقد رقم نہیں ہے۔
SOEs Act 2023 اصل میں ان اداروں کو عالمی بہترین طریقوں کے مطابق لانے کے لیے بنایا گیا تھا، جس کی آخری تاریخ فروری 2026 تھی۔ اب پانچ سالہ استثنیٰ کی درخواست ان اصلاحات سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے اکاؤنٹنگ میں تاخیر کا سہارا لے کر اصل مسائل کو حل کرنے کے بجائے صرف وقت گزارا ہے۔
عوامی ردعمل
حکومتی اور عوامی ردعمل بقا کی جنگ اور اصلاحاتی شکوک و شبہات کے درمیان منقسم ہے۔ جہاں وزارتِ پیٹرولیم اسے مارکیٹ کی ساکھ کے لیے ڈھال قرار دے رہی ہے، وہیں وزارتِ خزانہ کے بعض حلقے اسے شفافیت پر سمجھوتہ قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •پاکستانی حکومت سرکاری انرجی کمپنیوں کو International Financial Reporting Standards (IFRS) 9 اور 14 سے پانچ سالہ استثنیٰ دینے کی تجویز دے رہی ہے۔
- •گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ (circular debt) 3.4 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے اصل رقم ہے۔
- •ان معیارات پر قرضوں کی ادائیگی کے بغیر عمل درآمد کرنے سے کمپنیوں کو تقریباً 500 ارب روپے کا خسارہ دکھانا پڑے گا، جو ان کا سرمایہ ختم کر سکتا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔