پاکستان کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے Fatah-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان کا نیا میزائل تجربہ علاقائی دفاع کو مضبوط بنائے گا، جو ملکی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستان نے اپنے جدید Fatah-4 کروز میزائل کے نئے ورژن کا کامیاب تجربہ کر کے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے، یہ میزائل دشمن کے ریڈار سے بچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
The report is based on official military press releases from the ISPR, reflecting a state-aligned perspective on national defense achievements. The analysis provides additional context by distinguishing between conventional and nuclear command structures.

"یہ ہتھیار انتہائی درستگی کے ساتھ طویل فاصلے پر موجود اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ تجربہ مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی کشیدگی کے بعد ایک اہم اسٹریٹجک پیغام ہے۔ 'سروائیوبلٹی' پر توجہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان دشمن کے میزائل ڈیفنس شیلڈ میں موجود خلا کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کے بجائے روایتی کروز میزائلوں پر توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی انجینئرز S-400 جیسے جدید سسٹمز کے باوجود اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا میزائل پروگرام اب غیر ملکی ٹیکنالوجی کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت تیار ہو رہا ہے، جس کا مقصد انڈیا کی بڑی فوج کے مقابلے میں کم سے کم دفاعی توازن برقرار رکھنا ہے۔
2025 میں Army Rocket Force Command کا قیام پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کو پیشہ ورانہ بنانے کی طرف ایک بڑا قدم تھا۔
عوامی ردعمل
سرکاری سطح پر اس کامیابی پر فخر اور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مبارکباد اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان دفاعی میدان میں خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اہم حقائق
- •Fatah-4 مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے مار کرنے والا کروز میزائل ہے جو ریڈار اور ڈیفنس سسٹمز کو چکمہ دے سکتا ہے۔
- •اس میزائل میں جدید نیویگیشن سسٹم نصب ہے اور اس کی رینج 750 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔
- •یہ تجربہ Army Rocket Force Command کی نگرانی میں کیا گیا، جو کہ روایتی میزائل جنگ کے لیے 2025 میں قائم کی گئی تھی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔