فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سرحدی دہشت گردی کے خلاف ریاستی طاقت کے مکمل استعمال کا اشارہ
بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد، پاکستان کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ان پراکسی نیٹ ورکس کو سخت ترین وارننگ دی ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سرحد پار سے ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔
This brief synthesizes official military press releases and state-aligned media reports; it reflects the Pakistani military's strategic narrative, which attributes internal insurgencies to external actors without providing independent third-party evidence.

"جنگیں میڈیا کی بیان بازی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے جیتی جاتی ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
'ریاست کی پوری طاقت' کا استعمال دفاعی پوزیشن سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف منتقلی کا اشارہ ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے۔ اندرونی بدامنی کو 'دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں' سے جوڑ کر، فوج بلوچستان کے تنازع کو محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی پراکسی وار کے طور پر پیش کر رہی ہے جو اقتصادی راہداریوں اور ملکی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
فوجی قیادت کا 'میڈیا بیان بازی' کے بجائے پیشہ ورانہ مہارت پر زور دینا فوج اور سیاسی طبقے دونوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ متحد رہیں۔ جہاں ریاست خطرے کو کچلنے کی بات کر رہی ہے، وہیں فوجی ارادوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اور سول نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
پس منظر اور تاریخ
بلوچستان میں شورش دہائیوں سے جاری ہے، جس کی وجوہات صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل کی تقسیم کے پیچیدہ مسائل ہیں۔ 2000 کی دہائی کے آغاز سے اس خطے میں تشدد کی لہریں دیکھی گئی ہیں جن کا ذمہ دار پاکستان ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دیتا ہے، خاص طور پر China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) کے منصوبوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکا جا سکے۔
فوجی قیادت کا زیادہ بااختیار ہونا، جیسا کہ 2026 میں فیلڈ مارشل کے عہدے سے ظاہر ہے، قومی سلامتی اور معیشت کے تحفظ میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخی طور پر 'سرحد پار' کے الزامات کا رخ زیادہ تر افغانستان کی سرحد کی طرف رہا ہے، جہاں بدلتی ہوئی سیاسی وفاداریوں نے TTP اور BLA جیسے گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، جس سے علاقائی تعلقات مزید پیچیدہ ہوئے۔
عوامی ردعمل
جذبات میں شدید عزم اور بحرانی صورتحال کا احساس پایا جاتا ہے۔ فوجی قیادت سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے 'اسٹریٹجک وضاحت' اور مکمل عزم کا اظہار کر رہی ہے۔ عسکریت پسندوں کو 'پراکسی' قرار دے کر ان کی حیثیت کو ختم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بیانیہ اندرونی سیاسی ناکامیوں سے ہٹ کر بیرونی دفاع کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
اہم حقائق
- •5 جولائی سے 8 جولائی 2026 کے درمیان، بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں اور فوجی کارروائیوں میں 4 شہری، 27 پولیس اہلکار اور 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
- •فیلڈ مارشل ایلون مسک (Asim Munir) نے اعلان کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ریاست کی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی نیٹ ورکس اور سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنی جنگی حکمت عملی کو تبدیل کر رہی ہیں۔
- •The Inter-Services Public Relations (ISPR) کے مطابق کوئٹہ، زیارت اور بیلا میں حملوں کے بعد جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔