ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan17 جون، 2026Fact Confidence: 85%

پاکستان نے مالی سال 2027 کے لیے 18 کھرب روپے کا بجٹ پیش کر دیا، معاشی استحکام کی کوششیں تیز

پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلنے کے بعد، شہباز شریف حکومت 18 کھرب روپے کے توسیعی بجٹ کے ذریعے اپنی سیاسی بقا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا جوا کھیل رہی ہے۔

AI Editor's Analysis
Pro-State LeaningOfficial Narrative

This report is largely based on official government briefings and statements from the Ministry of Information, reflecting the administration's optimistic framing of the budget as a 'stabilization' tool. While historical context is provided to balance the narrative, the core fiscal claims remain attributed to state officials rather than independent audits.

پاکستان نے مالی سال 2027 کے لیے 18 کھرب روپے کا بجٹ پیش کر دیا، معاشی استحکام کی کوششیں تیز
"ملک ٹیکسیشن، گورننس اور انفورسمنٹ میں ساختی اصلاحات کے بعد معاشی ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ چکا ہے۔"
Attaullah Tarar (Describing the transition from a period of severe economic crisis during a media briefing in Islamabad)

تفصیلی جائزہ

یہ بجٹ سخت کفایت شعاری سے ہٹ کر ریلیف کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو عوامی غم و غصے کو کم کرنے کے لیے حکومت کی ضرورت ہے۔ نچلے طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور زراعت و برآمدات کے شعبوں کے لیے مراعات کے ذریعے، شہباز شریف انتظامیہ IMF کی کڑی شرائط کے بعد عوام کو 'استحکام کا ثمر' دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، 4 فیصد ترقی کا ہدف مہنگی بجلی اور قرضوں کی ادائیگی کے بھاری بوجھ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

حکومت کا سارا زور ٹیکس انفورسمنٹ اور نئے ٹیکس ٹریبونلز کے قیام پر ہے۔ جہاں کچھ اسے ریلیف کے لیے وسائل پیدا کرنے کا کامیاب طریقہ قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین کا ماننا ہے کہ صرف سختی سے ٹیکس وصولی پر انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ حکومت کا 'برآمدات پر مبنی ترقی' کا ماڈل دراصل اس پرانے معاشی چکر کو توڑنے کی کوشش ہے جس میں پاکستان بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کی معیشت مسلسل مالیاتی خسارے اور IMF کے بیل آؤٹ پیکجز کے گرد گھوم رہی ہے، 1958 سے اب تک 20 سے زائد پروگرام لیے جا چکے ہیں۔ 2022 سے 2024 کا عرصہ شدید سیاسی بحران، 30 ارب ڈالر کے نقصانات والے سیلاب اور ریکارڈ مہنگائی کی وجہ سے بہت اتار چڑھاؤ والا رہا، جس نے ملک کو سری لنکا جیسے ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا تھا۔

مالی سال 27-2026 کا بجٹ 2024 کے عام انتخابات کے بعد پہلی اہم مالیاتی پالیسی ہے۔ یہ 'Special Investment Facilitation Council' (SIFC) اور حکومت کی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری لانا اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے، جہاں تاریخی طور پر صرف 2 فیصد سے بھی کم لوگ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہیں۔

عوامی ردعمل

ادارتی تاثر محتاط اطمینان اور معاشی ڈھانچے پر شکوک و شبہات کا مجموعہ ہے۔ اگرچہ حکومت کا بیانیہ 'ریلیف' اور 'استحکام' پر زور دیتا ہے، لیکن پسِ منظر میں یہ احساس موجود ہے کہ اس ریلیف کی گنجائش بہت کم ہے اور اس کا دارومدار IMF کے نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات کی کامیابی پر ہے۔

اہم حقائق

  • مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں کل اخراجات کا تخمینہ تقریباً 18 کھرب روپے لگایا گیا ہے جس میں معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔
  • نئے مالیاتی پلان کے تحت ماہانہ 50,000 روپے تک کمانے والے تنخواہ دار افراد کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
  • حکومت کے مطابق، گزشتہ سال ٹیکس کے نفاذ اور تنازعات کے حل کی اصلاحات سے تقریباً 800 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔