پاکستان کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ: IMF کی سختی اور عوامی ریلیف کے درمیان ایک کٹھن توازن
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 'گروتھ فیز' کی طرف ایک نازک منتقلی پر جوا کھیل رہے ہیں، جو ایک تلخ معاشی حقیقت کو چھپا رہا ہے جہاں قرضوں اور دفاعی اخراجات ملک کی طویل مدتی ترقی کو نگل رہے ہیں۔
This report synthesizes official fiscal data from primary Pakistani financial news sources while framing the narrative through the lens of independent economic skepticism regarding the country's debt-to-development ratio.

"حکومتی اخراجات کو چار 'ڈی' (Ds) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ڈیٹ (قرض)، ڈیفنس (دفاع)، ڈے ٹو ڈے (روزمرہ کے حکومتی امور) اور ڈویلپمنٹ (ترقی)... پہلے تین بڑے پیمانے پر غیر اختیاری ہیں اور ان پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ بجٹ IMF کی ساختی شرائط کو پورا کرنے اور تنخواہ دار طبقے اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو سہارا دینے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ مکمل معاشی جمود سے بچا جا سکے۔ صوبائی گرانٹس کو براہِ راست FBR کی ریونیو کارکردگی سے جوڑ کر، اسلام آباد نے مالیاتی نظم و ضبط کا بوجھ صوبوں پر ڈال دیا ہے؛ اب ریونیو میں کسی بھی کمی کی صورت میں صوبائی سطح پر خودکار طور پر کٹوتیاں ہوں گی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ IMF کی نگرانی اب عمومی اہداف سے ہٹ کر کارکردگی پر مبنی شرائط تک پہنچ چکی ہے۔
حکومتی امید اور معاشی حقیقت کے درمیان 'گروتھ فیز' کے حوالے سے واضح فرق ہے۔ جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی 18ویں ترمیم کے بعد سماجی ذمہ داریوں کی صوبوں کو منتقلی کا نتیجہ ہے، وہیں آزاد ماہرینِ معیشت اسے 'ڈیٹ، ڈیفنس اور ڈے ٹو ڈے' اخراجات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جنہوں نے سرمایہ کاری کی جگہ گھیر لی ہے۔ مزید یہ کہ پٹرولیم لیوی کا 1.68 ٹریلین روپے کا ہدف انکم ٹیکس میں ملنے والے ریلیف کے فائدے کو تیزی سے ختم کر سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
مالی سال 27-2026 کا بجٹ برسوں کے مالیاتی خسارے اور 'بوم بسٹ' سائیکل کے بعد آیا ہے جس نے پاکستان کو بار بار IMF کے بیل آؤٹ پیکجز لینے پر مجبور کیا۔ تاریخی طور پر، 2010 کی 18ویں آئینی ترمیم نے اہم اختیارات اور سماجی اخراجات صوبوں کو منتقل کیے، لیکن وفاقی حکومت ریونیو کا بڑا حصہ جمع کرنے کے باوجود اب بھی ملک کے بھاری قرضوں اور دفاعی اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
پٹرولیم لیوی جیسے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک پرانا رجحان رہا ہے کیونکہ حکومت براہِ راست ٹیکس نیٹ کو بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمدنی پر ٹیکس لگانے اور نان فائلرز کے لیے اثاثوں کی خریداری پر پابندی لگانے کی کوششیں غیر دستاویزی معیشت کو نیٹ میں لانے کی ایک دہائی پرانی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہیں—جسے رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے طاقتور گروہوں کی جانب سے ہمیشہ سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی سطح پر تنخواہ دار طبقے کو ملنے والے ریلیف کا محتاط خیرمقدم کیا جا رہا ہے، لیکن پٹرولیم لیوی اور الیکٹرک گاڑیوں جیسی نئی ٹیکنالوجیز پر ٹیکسوں کی وجہ سے گہرے شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔ ادارتی طور پر اسے ایک 'بقا کا بجٹ' سمجھا جا رہا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے بجائے IMF کی شرائط اور قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دیتا ہے، جس سے حکومت کا 'گروتھ فیز' کا بیانیہ مہنگائی کے جھٹکوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
اہم حقائق
- •حکومتِ پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے Federal Board of Revenue (FBR) کے ٹیکس وصولی کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے۔
- •نئے مالیاتی اقدامات میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر 30 فیصد سے 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس شامل ہے۔
- •کل قومی ترقیاتی بجٹ کم کر کے 3.675 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ 4.224 ٹریلین روپے منظور ہوا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔