پاکستان کا مالی سال 27 کا بجٹ: محمد اورنگزیب کا تنخواہ دار طبقے کو بچانے کے لیے ریٹیل ٹیکس پر بڑا جوا
آئی ایم ایف (IMF) کے تعاون سے جاری معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش میں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27 کے بجٹ کو پسے ہوئے متوسط طبقے کے بجائے تاریخی طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ریٹیل سیکٹر کی طرف موڑ دیا ہے۔
This brief synthesizes official government projections and statements from the Finance Ministry. While the economic data is presented as fact, the tags highlight that such state-issued figures are often contested by independent analysts and international observers.

""اس بجٹ میں، ہم نے اضافی اور سخت اقدامات اٹھائے ہیں... مساوات اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم نے موجودہ ٹیکس دہندگان، خاص طور پر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
انتظامیہ کی 'ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے' پر توجہ عالمی قرض دہندگان کی برسوں سے جاری ساختی تنقید کا براہ راست جواب ہے جن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ غیر منصفانہ طور پر ایک ہی جگہ مرکوز ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر دباؤ کم کرنے کے واضح دعوے کے ذریعے، حکومت تاجروں اور ریٹیلرز کے خلاف سخت کارروائی کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، یہ شعبہ اپنی سیاسی طاقت اور احتجاجی مزاحمت کی تاریخ کے لیے مشہور ہے؛ ان سے خاطر خواہ ریونیو حاصل کرنے میں کسی بھی ناکامی کی صورت میں مالیاتی خسارہ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں حکومت کو دوبارہ پہلے سے بوجھ تلے دبے صنعتی اور تنخواہ دار شعبوں پر ٹیکس لگانے کی طرف لوٹنا پڑے گا۔
وزیر خزانہ کا جی ڈی پی (GDP) کی 3.7 فیصد شرح نمو کا دفاع سرکاری معاشی اعداد و شمار کی ساکھ پر پیدا ہونے والے گہرے تنازع کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ حکومت یو این (UN) کے معیار (SNA 2008) پر اصرار کرتی ہے، لیکن آزاد تجزیہ کاروں کا اکثر یہ کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کے بحران کے درمیان سیاسی اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایسے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سرکاری خوش فہمی اور عوام کی تلخ حقیقت کے درمیان یہ تناؤ اس 'قومی اتفاق رائے' کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جسے محمد اورنگزیب مسلسل اصلاحات کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان دہائیوں سے معاشی 'بوم اینڈ بسٹ' (تیزی اور مندی) کے چکر میں پھنسا ہوا ہے، اور 1950 کی دہائی کے آخر سے اب تک 20 سے زیادہ آئی ایم ایف (IMF) پروگراموں میں شامل ہو چکا ہے۔ تاریخی طور پر، ملک کا ٹیکس اور جی ڈی پی (GDP) کا تناسب خطے میں سب سے کم رہا ہے، جو تقریباً 9 سے 10 فیصد کے قریب رہتا ہے، جس کی بڑی وجہ زراعت اور ریٹیل کے طاقتور لابی گروپس ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ چھوٹ حاصل کی یا ٹیکس احکامات کو نظر انداز کیا۔
مالی سال 27 کا موجودہ بجٹ 2022-23 کے توازن ادائیگی (balance-of-payments) کے شدید بحران کے بعد آیا ہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ اس انتہائی معاشی نزاکت نے شہباز شریف حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ بیرونی قرض دہندگان کو مطمئن کرنے کے لیے سخت اور سیاسی طور پر غیر مقبول اقدامات اٹھائے، جو کہ ماضی کے ان عوامی اخراجات کے رجحانات سے بالکل مختلف ہے جو عام طور پر پاکستان میں انتخابی بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ ایک ایسی حکومت کی عکاسی کرتا ہے جو دفاعی پوزیشن میں ہے، اور عوام کے ردعمل کے خوف سے کفایت شعاری کو 'مساوات' کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ استحکام اور ترقی کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن معاشی اعداد و شمار کو درست ثابت کرنے کی فوری ضرورت عوامی اعتماد کی کمی اور مہنگائی کی وجہ سے ہونے والے نئے احتجاجی مظاہروں کے خدشے کو ظاہر کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •حکومت پاکستان نے گزشتہ مالیاتی چکر کے لیے مستقل قیمتوں کی بنیاد پر باضابطہ طور پر جی ڈی پی (GDP) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
- •مالی سال 27 کے بجٹ میں رجسٹریشن اور ٹیکسیشن کی ایک نئی لازمی اسکیم شامل کی گئی ہے جو خاص طور پر ریٹیل اور ہول سیل سیکٹرز کو نشانہ بناتی ہے۔
- •رواں مالی سال کے قومی کھاتوں کا تخمینہ 2015-16 کو بنیادی سال قرار دے کر لگایا گیا ہے، جس کے مطابق معیشت کا کل حجم تقریباً 452 ارب ڈالرز ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔