ح
Pakistan31 جولائی، 20262 منٹ2 ذرائع متفق

نظام کی ناکامی کے بعد وزیرِ دفاع کی بھی ہائبرڈ ماڈل کی حمایت

مہنگائی اور بدامنی سے پریشان پاکستانیوں کے لیے نظام کی ناکامی کا یہ حکومتی اعتراف بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

پاکستانی کابینہ کے اندر سے نظام کی ناکامی کے کھلے اعتراف نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا موجودہ جمہوری ڈھانچہ بڑی تبدیلیوں کے بغیر برقرار رہ سکتا ہے۔

AI Editor's Analysis
AnalyticalOpinionatedState-critical

This report synthesizes rare public admissions of systemic failure from within the Pakistani cabinet and military establishment. The tags reflect that the primary source material consists of internal critiques and political maneuvering regarding the country's governance model.

نظام کی ناکامی کے بعد وزیرِ دفاع کی بھی ہائبرڈ ماڈل کی حمایت
""میرا ماننا ہے کہ ہماری بقا اب ہائبرڈ سسٹم کی کامیابی میں ہی ہے۔""
Khawaja Asif (Speaking on a private news channel regarding the future of Pakistan's governance)

تفصیلی جائزہ

PML-N کے اندر اختلافات اب واضح ہو گئے ہیں؛ رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی پر تنقید کی ہے جبکہ خواجہ آصف اب ہائبرڈ سسٹم (فوج اور سویلین اشتراک) کو واحد حل قرار دے رہے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ حکومت کا ایک دھڑا اسٹیبلشمنٹ کے اس خیال سے متفق ہے کہ روایتی سویلین نظام جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے۔

ان بیانات کا وقت بہت اہم ہے۔ 1972 کے انتظامی ڈھانچے کو 24 کروڑ عوام کے لیے ناکافی قرار دے کر نئے صوبوں کی بات کی جا رہی ہے، لیکن خواجہ آصف کا محسن نقوی کو اپنی وزارت ٹھیک کرنے کا مشورہ دکھاتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں اب بھی الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان 1970 کی دہائی سے چار صوبوں کے ڈھانچے پر چل رہا ہے۔ 2010 میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ اختیارات دیے گئے تھے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے عام آدمی کو انصاف اور سیکیورٹی فراہم کرنے میں بہتری نہیں آئی۔

ہائبرڈ ماڈل سے مراد ایسا انتظام ہے جہاں فوجی قیادت معاشی اور سفارتی پالیسیوں میں منتخب نمائندوں کے ساتھ براہِ راست شامل ہوتی ہے۔ یہ گزشتہ دہائی سے پاکستانی سیاست کا اہم حصہ بن چکا ہے کیونکہ ملک معاشی بحران اور دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

عوامی ردعمل

عوامی اور صحافتی حلقوں میں اسے ایک سوچی سمجھی سیاسی چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ممکنہ آئینی تبدیلیوں کے لیے زمین ہموار کرنا ہے، لیکن وزراء کے اختلافات حکومت کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

اہم حقائق

  • وزیرِ داخلہ Mohsin Naqvi نے موجودہ حکومتی ڈھانچے کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے صوبوں کی تجویز دے دی۔
  • وزیرِ دفاع Khawaja Asif نے اصلاحات کی حمایت کی لیکن کہا کہ یہ بحث کاروباری تقریبات کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔
  • فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کا کہنا ہے کہ فوج نے نیشنل ایکشن پلان پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے، جبکہ سویلین اداروں کے ذمے 12 نکات اب بھی باقی ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Defense Minister backs hybrid model after Interior Minister declares system collapse - Haroof News | حروف