IMF کی NEV ٹیکس رعایتوں کی مخالفت سے پاکستان کی آٹو پالیسی کا مستقبل خطرے میں
بجٹ کی آخری تاریخ قریب آتے ہی پاکستان کے ماحول دوست توانائی کے عزائم IMF کی سخت مالیاتی پالیسی سے ٹکرا گئے ہیں، جس سے ملک میں گاڑیوں کی تیاری کی صنعت کے اگلے دس سال داؤ پر لگ گئے ہیں۔
While based on consistent reporting regarding ongoing IMF negotiations, this brief utilizes dramatic metaphors such as 'fiscal iron curtain' to characterize standard budgetary friction, reflecting the high-stakes narrative typical of regional economic journalism.

"IMF نے ایک بار پھر ان تجاویز میں سے کسی سے بھی اتفاق نہیں کیا اور مزید وضاحتیں طلب کر لیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ صورتحال صنعتی ترقی کی حکمت عملی اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان ایک بڑا تصادم ظاہر کرتی ہے۔ 18 فیصد ٹیکس پر اصرار کر کے IMF طویل مدتی گرین ٹیکنالوجی کے بجائے فوری ریونیو وصولی کو ترجیح دے رہا ہے۔ اگرچہ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ IMF ٹیکس چھوٹ کے بجائے براہ راست سبسڈی کو بہتر سمجھتا ہے، لیکن اس طریقے سے نئی ابھرتی ہوئی EV مارکیٹ کے لیے قیمتوں کی ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔
پاکستانی حکومت کے اندرونی اختلافات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ وزارت صنعت پارٹس پر رعایت چاہتی ہے جبکہ وزارت تجارت سے اس بارے میں مکمل مشاورت نہیں کی گئی۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ان اختلافات اور IMF کے رویے نے 24 جون کو بجٹ کی منظوری سے محض چند روز قبل ایک پالیسی خلا پیدا کر دیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا آٹو سیکٹر تاریخی طور پر ٹیرف پروٹیکشن کے تحت کام کرتا رہا ہے تاکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ پچھلی آٹو پالیسی (2021-2026) میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات دینے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن غیر ملکی زر مبادلہ کے بحران نے ان کوششوں کو نقصان پہنچایا۔
موجودہ کشیدگی اس وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے جہاں پاکستان کی صنعتی پالیسیوں کو IMF کے بیل آؤٹ پروگراموں کی سخت شرائط کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ پاکستان اکثر IMF کے پروگراموں میں رہا ہے جہاں مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو ختم کر کے بالواسطہ ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔
عوامی ردعمل
اس وقت صنعت سے وابستہ افراد میں شدید مایوسی اور غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کو ڈر ہے کہ بجٹ سے پہلے پالیسی واضح نہ ہونے سے NEV سیکٹر میں سرمایہ کاری رک جائے گی، جبکہ حکومتی حلقوں میں وزارتوں کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
اہم حقائق
- •IMF نے نئی توانائی کی گاڑیوں (NEVs) پر 1 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز مسترد کرتے ہوئے 18 فیصد کا معیاری ریٹ لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- •موجودہ آٹو پالیسی جون 2026 میں ختم ہو رہی ہے، لیکن وزارتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے 2026-31 کے فریم ورک کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
- •پاکستانی حکام نے ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو معیاری 18 فیصد ریٹ کے آدھے (9 فیصد) پر رکھنے کی تجویز دی تھی، جسے IMF نے مسترد کر دیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔