پاکستان کا بھارت پر پانی کے بڑھتے ہوئے تنازع کے درمیان 'ہائیڈرو ہیجمنی' (آبی بالادستی) کا الزام
جبکہ نئی دہلی یکطرفہ طور پر دہائیوں پر محیط 'ہائیڈرو ڈپلومیسی' کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے، اسلام آباد عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے کہ بھارت کے ڈیموں کی توسیع دریائے سندھ کے نظام کو جنگ کے جغرافیائی سیاسی ہتھیار میں بدل رہی ہے۔
This brief reflects a regional narrative constructed entirely from Pakistani state officials and media outlets. The assertions regarding the unilateral suspension of international treaties and the characterization of infrastructure as 'hydro-hegemony' represent Islamabad's strategic positioning and have not been independently verified by neutral international bodies or corroborated by the Indian government.

""مجموعی طور پر، ایسے کم از کم 17 منصوبے ہیں جو پورے دریا کے نظام کو مکمل طور پر بدل دیں گے، جس سے بھارت کو 'ہائیڈرو ہیجمنی' کے وہ اوزار مل جائیں گے جن کی وہ خواہش رکھتا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
اس معاملے میں 20 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی بقا اور پانی کی حفاظت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ آپریشنل مینجمنٹ سے سٹرکچرل ڈائیورژن کی طرف منتقل ہو کر، بھارت ایک سٹرٹیجک تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے جہاں پانی اب مشترکہ وسیلہ نہیں بلکہ دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہے۔ 'The Express Tribune' (Source 2) اس بات پر زور دیتا ہے کہ Ishaq Dar ان منصوبوں کو غیر قانونی ڈیموں کے ذریعے 'ہائیڈرو ہیجمنی' قائم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ 'Geo TV' (Source 3) پاکستان کے اس موقف کو اجاگر کرتا ہے کہ سرحد پار پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش 'اعلانِ جنگ' تصور کی جائے گی۔
قانونی میدانِ جنگ IWT ہے، جس میں یکطرفہ دستبرداری کی کوئی شق نہیں ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بین الاقوامی قانون دونوں فریقوں کو 1960 کے فریم ورک کا پابند بناتا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کثیر جہتی قانونی پابندیوں کے بجائے طاقت پر مبنی دوطرفہ تعلقات کی ترجیح کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ عالمی سطح پر سرحد پار پانی کے انتظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جہاں 'اپر ریپیرین' (بالائی ریاست) اپنی جغرافیائی برتری کو بین الاقوامی ثالثی کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
1960 کا Indus Waters Treaty (IWT) تاریخ کے کامیاب ترین سرحد پار پانی کے اشتراک کے معاہدوں میں سے ایک ہے، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان تین مکمل جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔ اسے World Bank نے اس لیے طے کرایا تھا تاکہ پانی ایٹمی کشیدگی کا باعث نہ بن سکے۔ اس معاہدے نے سندھ کے نظام کو مؤثر طریقے سے تقسیم کیا، جس سے بھارت کو بیاس، راوی اور ستلج کا کنٹرول ملا، جبکہ پاکستان کو سندھ، چناب اور جہلم ملے۔
تاہم، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعلقات میں اس وقت دراڑیں آنا شروع ہوئیں جب بھارت نے مغربی دریاؤں پر کئی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے شروع کیے، جن کی معاہدہ سخت تکنیکی حدود کے ساتھ اجازت دیتا ہے۔ پاکستان نے اکثر ان منصوبوں، جیسے کہ Baglihar اور Kishanganga کو 'Permanent Court of Arbitration' میں چیلنج کیا ہے۔ بھارت کی طرف سے 2025 کی معطلی معاہدے کے آغاز کے بعد سے اس کے طریقہ کار کی سب سے بڑی ناکامی ہے، جس نے تنازع کو تکنیکی اختلافات سے مکمل سفارتی جمود کی طرف دھکیل دیا ہے۔
عوامی ردعمل
پاکستان میں عوامی جذبات انتہائی بے چینی کے حامل ہیں، جسے ریاست کی جانب سے بقا کی جنگ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جسے حکام پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ بڑے میڈیا اداروں کے اداریے تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو بھارت کے اقدامات کو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ ہے۔ 1960 کے فریم ورک کو مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے UN اور World Bank کے ذریعے بین الاقوامی مداخلت کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان کے وزیر خارجہ Ishaq Dar نے 17 مخصوص بھارتی آبی منصوبوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں Sawalkot اور Kirthai ڈیم شامل ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ یہ دریا کے بہاؤ کو بنیادی طور پر بدل دیں گے۔
- •بھارت نے جموں و کشمیر کے خطے میں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد 2025 کے اوائل میں 1960 کے Indus Waters Treaty (IWT) میں اپنی شرکت یکطرفہ طور پر معطل کر دی تھی۔
- •1960 کا Indus Waters Treaty (IWT)، جو World Bank کی ثالثی میں ہوا تھا، تاریخی طور پر تین مشرقی دریا بھارت کو اور تین مغربی دریا پاکستان کو دیتا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔