پاکستان کا آف گرڈ صنعت کاروں کے لیے ٹو پارٹ پاور ٹیرف حکمت عملی کا ہدف
گرتے ہوئے نیشنل گرڈ کو بچانے کے لیے پاکستان ایک ایسی سخت ٹیرف پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مقصد صنعتی سرمائے کو ملک کے غیر موثر توانائی کے ڈھانچے میں جکڑنا ہے۔
The draft adopts the original source's adversarial tone regarding Pakistani energy policy, using loaded language such as 'punitive' and 'trap' to characterize fiscal measures. The reporting is based on a single regional outlet's coverage of confidential government proposals to the IMF.

""نیشنل گرڈ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے پر یونٹ کی قیمت میں کمی کا انعام ملے گا، لیکن کم استعمال کرنے پر بھاری فکسڈ چارجز کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جائے گا۔""
تفصیلی جائزہ
یہ ریاستی بجلی کے اداروں کے بیلنس شیٹ کو بہتر بنانے کی ایک مایوس کن کوشش ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی اور کارکردگی کو سزا دی جا رہی ہے۔ فکسڈ چارجز بڑھا کر، حکومت دراصل سولر سرمایہ کاری پر ٹیکس لگا رہی ہے تاکہ غیر استعمال شدہ تھرمل پلانٹس کا خرچ نکالا جا سکے۔ اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس سے صنعتی پیداوار مزید کم ہو جائے گی؛ اگر گرڈ پر رہنے کی فکسڈ لاگت سبسڈی والے نرخوں سے بڑھ گئی تو چھوٹی اور درمیانی صنعتیں دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ماحول دوست توانائی کے بجائے پرانے بجلی کے معاہدوں کو بچانے کو ترجیح دے رہی ہے۔
پالیسی کے اصل مقصد پر متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ Power Division کا خیال ہے کہ اس سے یونٹ سستا ہونے کی وجہ سے گرڈ بجلی کا استعمال بڑھے گا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگوں کو سزا دینے کا طریقہ ہے جنہوں نے پہلے ہی رینویبل انرجی میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ IMF کی تشویش کہ صنعتی ڈیمانڈ کم ہو رہی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی قرض دہندہ گرڈ کی بقا کو مزید بیل آؤٹ پیکجز کے لیے لازمی قرار دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس سے ڈیمانڈ واپس گرڈ پر آئے گی یا سرمایہ ملک سے باہر چلا جائے گا۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کے توانائی کے بحران کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط IPPs کے ساتھ کیے گئے 'Take-or-Pay' معاہدوں میں ہیں۔ یہ معاہدے ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ وہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، ایک مخصوص صلاحیت کی ادائیگی ضرور کرے گی۔ جیسے جیسے معاشی ترقی سست ہوئی اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں، کاروباروں نے سولر ٹیکنالوجی کا رخ کیا، جس سے نیشنل گرڈ کے لیے ایک 'ڈیتھ اسپائرل' (death spiral) پیدا ہو گیا: کم صارفین سے وہی بھاری فکسڈ چارجز وصول کرنے کے چکر میں قیمتیں مزید بڑھ گئیں، جس نے مزید لوگوں کو گرڈ سے دور کر دیا۔
یہ اقدام گزشتہ برسوں کی پالیسی سے بالکل الٹ ہے جہاں حکومت نے ایندھن کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے سولر کے استعمال کی ترغیب دی تھی۔ پالیسی میں یہ اچانک تبدیلی IMF کی شرائط کو پورا کرنے کے شدید دباؤ اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے (circular debt) کے مالی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے، جو اب ملک کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور اداریہ جاتی ردعمل تیزی سے تشویشناک ہوتا جا رہا ہے، اور اس پالیسی کو گرین انرجی کے اقدامات کے ساتھ دھوکہ دہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صنعت کاروں میں بے یقینی کی لہر ہے، کیونکہ حکومت نے پہلے سولر نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ افزائی کی اور اب اسے سزا دینے پر تُل گئی ہے۔ صنعت کار اسے ایک ایسا 'کیپیسٹی ٹیکس' سمجھ رہے ہیں جو نااہلی کو انعام دیتا ہے جبکہ ریاست توانائی کے شعبے کی بدانتظامی کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اہم حقائق
- •حکومت پاکستان نے IMF کو 'ٹو پارٹ انڈسٹریل ٹیرف پالیسی' کی تجویز دی ہے، جس میں فکسڈ چارجز میں اضافہ اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے یونٹ کی قیمت میں ممکنہ کمی شامل ہے۔
- •اس پالیسی کا مقصد ان صارفین سے واجبات وصول کرنا ہے جو سولر پاور یا دیگر آف گرڈ ذرائع پر منتقل ہو گئے ہیں، تاکہ آئیڈل کیپیسٹی پیمنٹس (idle capacity payments) کا خرچ پورا کیا جا سکے۔
- •صنعتی کنکشنز کے لیے اس پر عمل درآمد دو ماہ کے اندر متوقع ہے، جس کے بعد اس ماڈل کو کمرشل اور رہائشی شعبوں تک پھیلانے کا منصوبہ ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔