پاکستان علاقائی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ایران-امریکہ سیز فائر کو میزائلوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے
اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ناگزیر پل کے طور پر پیش کر کے، وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے سفارتی سرمائے کو ایک ایسی نازک امن کوشش پر لگا رہے ہیں جس میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے۔
This brief reflects official state narratives and statements reported by major Pakistani news outlets, which emphasize the government's mediation success and the military's strategic role. The coverage prioritizes the Pakistani government's perspective on the regional ceasefire and the specific exclusion of Iran's ballistic missile program from the agreement.

""یہ ناانصافی ہے کہ کچھ ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں لیکن وہ ایران کے اس حق پر سوال اٹھائیں... دہرے معیار نہیں ہونے چاہئیں۔""
تفصیلی جائزہ
پاکستان اپنی ریاست کو سیکیورٹی پر مرکوز ریاست سے مشرق وسطیٰ میں ایک مرکزی سفارتی ثالث میں تبدیل کرنے کی بڑی کوشش کر رہا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی میزبانی اور ایران کے میزائل پروگرام کے حق کا دفاع کر کے، اسلام آباد روایتی مغربی جھکاؤ سے ہٹ کر 'پہلے خطہ' (regional-first) کی پالیسی کا اشارہ دے رہا ہے۔ یہ حکمت عملی اسلام آباد ایم او یو (MoU) کو ایک سنگ میل کے طور پر منوانے کے لیے ہے، لیکن اس سے واشنگٹن کے ان سخت گیر حلقوں کو ناراض کرنے کا خطرہ ہے جو بیلسٹک میزائلوں کے اخراج کو معاہدے کی بڑی خامی سمجھتے ہیں۔
اس دورے کے دوران سامنے آنے والی صورتحال سویلین اور فوجی قیادت کے درمیان بہترین ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی 'انتھک' کوششوں کی کھل کر تعریف کی۔ وزیراعظم کی جانب سے اسلحے کے حوالے سے 'دہرے معیار' کی مذمت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب اس ڈیل کو ان 'سپائلرز' (spoilers) سے بچا رہا ہے جو ایران کے دوبارہ ابھرنے سے خوفزدہ ہیں۔ یہ ثالثی پاکستان کے اپنے معاشی اور سرحدی مفادات کے لیے بھی ایک ڈھال ہے جو ایران-امریکہ کشیدگی سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
اسلام آباد اور تہران کے تعلقات تاریخی طور پر 'برادرانہ' نعروں اور سرحدی کشیدگی، خاص طور پر بلوچستان میں سرحد پار عسکریت پسندی کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ دہائیوں سے پاکستان ایک نازک توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں وہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری قائم رکھتا ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنی 900 کلومیٹر طویل سرحد کو جیو پولیٹیکل تنازع کا محاذ بننے سے روکتا ہے۔
اسلام آباد ایم او یو (MoU) برسوں کی خاموش بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے جہاں پاکستان نے قطر اور عمان جیسے ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رساں کا کام کیا۔ یہ حالیہ پیش رفت علاقائی عدم استحکام کے ایک طویل دور کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ براہ راست تصادم کے بھاری نقصانات نے بالاآخر واشنگٹن اور تہران دونوں کو پاکستان کے ثالثی کے کردار کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ فاتحانہ قوم پرستی اور تزویراتی احتیاط کا امتزاج ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی پر فخر کا واضح احساس پایا جاتا ہے، لیکن ساتھ ہی ان 'سپائلرز' کے حوالے سے ایک گہری تشویش بھی موجود ہے جو ایران کے میزائل پروگرام کو معاہدے میں شامل نہ کرنے کی بنیاد پر سیز فائر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اہم حقائق
- •ایرانی صدر مسعود پزشکیان 23 جون 2026 کو اسلام آباد ایم او یو (MoU) پر دستخط کے بعد اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے۔
- •وزیراعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے ایم او یو (MoU) کا حصہ نہیں تھا۔
- •پاکستان کی فوجی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سویلین حکومت کی جانب سے علاقائی سیز فائر میں سہولت کاری کا باضابطہ کریڈٹ دیا گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔