ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan26 جون، 2026Fact Confidence: 88%

اقتصادی پابندیوں اور لاجسٹک تعطل کے باوجود پاکستان اور ایران کا علاقائی رابطے پر زور

جہاں اسلام آباد اور تہران عالمی مالیاتی تنہائی سے بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، علاقائی رابطے کی ایک اہم کوشش کو پرانے بینکنگ نظام اور پھلتی پھولتی غیر دستاویزی معیشت جیسی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedPro-State Leaning

This brief balances official state narratives of regional connectivity with critical economic reporting on failed barter deals, highlighting the friction between diplomatic rhetoric and the structural constraints of international sanctions.

اقتصادی پابندیوں اور لاجسٹک تعطل کے باوجود پاکستان اور ایران کا علاقائی رابطے پر زور
""18.675 ملین یورو کی برآمدی ٹرانزیکشن کا تعلق ایران سے بجلی کی درآمد کے ایک مجوزہ بارٹر انتظام سے تھا، جس کے تحت چاول کی برآمدات کی ادائیگی ایران کی پاور یوٹیلیٹی اور پاکستان کے CPPA-G کے درمیان لین دین کے ذریعے طے ہونی تھی، جس نے ایک سیدھی سادھی تجارتی ٹرانزیکشن کو پیچیدہ بنا دیا۔""
Hassan Ahmed, Transtrade Global CEO (Explaining the collapse of a multi-million-euro rice export deal due to the lack of formal financial infrastructure.)

تفصیلی جائزہ

ٹرانسپورٹ کمیٹیوں کو متحرک کرنا اور تیل کے آپشنز پر نظر ثانی کرنا پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک جوا ہے، جو امریکی پابندیوں کے خطرے کے باوجود اپنے توانائی کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے بے چین ہے۔ اگرچہ وزیر مواصلات علیم خان اور ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق کے درمیان اعلیٰ سطح کے دورے سیاسی ارادے کی علامت ہیں، لیکن ڈھانچہ جاتی دوری اب بھی برقرار ہے۔ چاول کے بدلے بجلی جیسے پیچیدہ بارٹر انتظامات کمزور ثابت ہوئے ہیں، جو اکثر سرکاری اداروں اور نجی برآمد کنندگان کے درمیان انتظامی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔

غیر رسمی معیشت اور تجارت کو قانونی شکل دینے میں دشواری نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوری چیلنج صرف نئی تجارت شروع کرنا نہیں ہے، بلکہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزیل کے اسمگلنگ نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنا ہے جو فی الحال سرکاری اعداد و شمار سے باہر ہیں۔ جہاں سرکاری حکام 'پرامن خطے' اور '10 ارب ڈالر کے تجارتی اہداف' پر زور دیتے ہیں، وہیں معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ادائیگی کا کوئی فعال طریقہ کار قائم نہیں ہو جاتا، تجارت 2 ارب ڈالر کے قریب ہی رکی رہے گی، جو سفارتی دعووں سے بہت کم ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو تاریخی طور پر تجارت کے منظم راستے کے بجائے اسمگلنگ کے لیے زیادہ کھلی رہی ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں، دونوں ممالک Regional Cooperation for Development (RCD) کے بانی ارکان تھے اور یورپ تک بلا تعطل تجارتی راستے کا خواب دیکھتے تھے۔ تاہم، 1979 کے ایرانی انقلاب اور سرد جنگ کے دوران پاکستان کے مغربی حمایت یافتہ سکیورٹی فریم ورک کے ساتھ الحاق نے ایک جغرافیائی سیاسی خلیج پیدا کر دی جس نے اقتصادی اتحاد کے بجائے سرحدی سلامتی کو ترجیح دی۔

جدید دور کی سب سے بڑی رکاوٹ Iran-Pakistan (IP) گیس پائپ لائن منصوبہ ہے، جو امریکی پابندیوں کے مسلسل خطرے کی وجہ سے دہائیوں سے تعطل کا شکار ہے۔ رکے ہوئے بڑے منصوبوں کی اس تاریخ نے ادارہ جاتی عدم اعتماد کو جنم دیا ہے؛ تہران اکثر اسلام آباد کی ہچکچاہٹ کو مغربی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اسلام آباد سستی ایرانی توانائی کی ضرورت اور بین الاقوامی مالیاتی نظام اور IMF کے استحکام پروگراموں پر اپنے انحصار کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔

عوامی ردعمل

جذبات سفارتی پرامیدی اور نجی شعبے کی مایوسی کے درمیان واضح تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرکاری بیانات تعاون اور علاقائی امن کے ایک 'نئے باب' کی پیش گوئی کرتے ہیں جس میں توانائی کی کم قیمتوں اور سڑکوں کے بہتر رابطوں پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے برعکس، کاروباری برادری اور مارکیٹ تجزیہ کار گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں، وہ مخصوص برآمدی سودوں کی ناکامی کو پابندیوں کے نظام کے تحت باضابطہ تجارت کے لیے ضروری مالیاتی تحفظ فراہم کرنے میں سسٹم کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔

اہم حقائق

  • پاکستانی اور ایرانی حکام نے سرحد پر لاجسٹکس اور ٹرکوں کی کلیئرنس میں تاخیر کے مسائل حل کرنے کے لیے جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
  • بینکنگ چینلز کی عدم موجودگی اور بجلی کی درآمد سے منسلک سخت بارٹر سسٹم کی وجہ سے حال ہی میں 18.675 ملین یورو کا چاول کی برآمد کا ایک بڑا سودا ناکام ہو گیا۔
  • مالی سال 2010 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 1.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی لیکن تہران پر بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں کی وجہ سے اس میں شدید کمی آئی ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad📍 Tehran

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan and Iran Pivot Toward Connectivity Amid Economic Sanctions and Logistics Gridlock - Haroof News | حروف