پاکستان کا کالعدم تنظیم کو افغانستان سے اسلحہ ملنے کا دعویٰ
اس خبر کا اثر آزاد کشمیر کی سیکیورٹی پر پڑے گا جہاں اوورسیز پاکستانیوں کے آبائی گھر اور خاندان رہتے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے اسلحہ اسمگلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی ایک کالعدم تنظیم اب افغانستان سے جدید رائفلیں منگوا رہی ہے۔
This report is tagged as State-Aligned and Disputed Claims because it synthesizes a press conference held by a government official involving intelligence-based operations and unverified audio leaks. The analysis provides critical context on how the state is reframing a grassroots economic movement as a national security threat.

"یہ نیٹ ورک انٹیلی جنس آپریشن کے دوران پکڑا گیا۔ ضیاء نامی شخص ماجد سے رابطے میں تھا، جو کالعدم JAAC کے اہم رکن سردار امان کا قریبی ساتھی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
حکومت اب JAAC کے خلاف اپنے بیانیے کو مزید سخت کر رہی ہے۔ جو تحریک پہلے بجلی اور آٹے کی قیمتوں پر شروع ہوئی تھی، اب اسے بیرونی مداخلت سے جوڑا جا رہا ہے۔ ہنڈی اور افغانی اسلحہ کے الزامات لگا کر حکام اس عوامی تحریک کی قانونی حیثیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
دونوں ذرائع اسلحہ کی اسمگلنگ کے راستے یعنی افغانستان سے پشاور اور پھر کوٹلی پر متفق ہیں۔ جہاں ایک طرف JAAC کے عوامی مطالبات کا ذکر ہے، وہیں دوسری طرف حکومتی وزراء افغانستان کو ایک ایسے 'پروکسی' کے طور پر دیکھ رہے ہیں جسے پاکستان کا پڑوسی ملک دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
آزاد کشمیر میں تاجروں اور سول سوسائٹی کے اتحاد JAAC نے منگلا ڈیم کی سستی بجلی اور اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کے مطالبات سے شہرت حاصل کی۔ 2025 کے آغاز میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
اس تنازع کی ایک بڑی وجہ مہاجرین کی 12 نشستوں پر قانونی جنگ بھی ہے۔ JAAC کا ماننا ہے کہ یہ نشستیں باہر رہنے والے لوگوں کو زیادہ طاقت دیتی ہیں، جبکہ عدالت نے انہیں آئینی تحفظ دے رکھا ہے۔ معاشی مہنگائی اور اس قانونی ڈیڈ لاک نے وہ خلا پیدا کیا جسے اب حکومت عسکریت پسندی سے جوڑ رہی ہے۔
عوامی ردعمل
حکومت کا لہجہ انتہائی سخت ہے اور وہ آڈیو ثبوتوں کے ذریعے اس پابندی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، آزاد کشمیر کے عوام میں شک و شبہات پائے جاتے ہیں کیونکہ وہ اس تحریک کو اپنے معاشی حقوق کی آواز سمجھتے ہیں۔
اہم حقائق
- •سیکیورٹی فورسز نے ضیاء نامی مبینہ اسلحہ ڈیلر کو گرفتار کیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ دو سال سے JAAC کو اسلحہ دے رہا تھا۔
- •کلاشنکوف اور M4 رائفلوں پر مشتمل اسلحہ افغانستان سے پشاور کے علاقے باڑہ لایا گیا، جسے بعد میں ایک سرکاری ملازم نے کوٹلی منتقل کیا۔
- •آزاد کشمیر حکومت نے 5 جون 2025 کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت JAAC کو باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔