علاقائی عدم استحکام کے باعث سپاٹ LNG کی قیمتوں میں دوگنا اضافے سے پاکستان کا توانائی کا بحران مزید سنگین ہو گیا
قطر کے ساتھ طویل مدتی توانائی کے معاہدوں پر اسلام آباد کا نازک انحصار ختم ہو گیا ہے، جس نے ریاست کو 'سپاٹ مارکیٹ' سے خریداری پر مجبور کر دیا ہے جہاں قیمتیں تقریباً 100 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
While the core data regarding the 15% price hike and the $17.37 spot purchase are factually grounded in regulatory and market reports, the narrative uses emotive descriptors like 'predatory' and 'fractured' to emphasize the scale of the economic crisis.

"اس ہفتے خریدی گئی سپاٹ کارگو کی قیمت پاکستان کی قطر سے طویل مدتی سپلائی کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے، جو سپلائی میں رکاوٹ کے مالی اثرات کو نمایاں کرتی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
توانائی کی حفاظت کے لیے محض ایک سپلائر یعنی قطر پر انحصار کرنے کی پاکستان کی پرانی حکمت عملی جغرافیائی و سیاسی جھٹکوں کی وجہ سے ناکام ہو گئی ہے۔ جہاں OGRA نے 15 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، وہیں سپاٹ مارکیٹ سے دوگنا قیمت پر خریداری ریاست کی بے بسی ظاہر کرتی ہے۔ اب حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ خود بھاری سبسڈی کا نقصان برداشت کرے یا پھر پہلے سے ہی بجلی کے مہنگے ٹیرف کی چکی میں پستی ہوئی صنعتوں پر یہ بوجھ ڈال دے۔
امریکہ، نائیجیریا اور موزمبیق جیسے متبادل سپلائرز کی طرف دیکھنا قطر کی سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کی ایک ہنگامی کوشش ہے، لیکن یہ مہنگے اور عارضی حل ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبریں آ رہی ہیں، لیکن گیس کی برآمدات کی بحالی میں تاخیر بتاتی ہے کہ علاقائی عدم استحکام نے ایک مستقل 'رسک پریمیم' پیدا کر دیا ہے، جسے ادا کرنے کی سکت پاکستان کے گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں نہیں ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان نے 2015 میں توانائی کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے LNG کا رخ کیا تھا جس نے اس کے صنعتی مراکز کو مفلوج کر دیا تھا۔ قطر کے ساتھ 15 سالہ اربوں ڈالر کے معاہدوں کے ذریعے قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش کی گئی، لیکن اس انحصار نے ملک کو خلیج فارس کے تناؤ اور عالمی سپلائی چین کے جھٹکوں کے سامنے بار بار بے بس کر دیا ہے۔
موجودہ بحران 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اب خطرات کہیں زیادہ ہیں کیونکہ پاکستان IMF کے ساتھ معاشی استحکام کے پروگرام میں منسلک ہے۔ ماضی میں سپاٹ مارکیٹ سے 'ہنگامی' خریداریوں نے گردشی قرضوں (circular debt) کا ایسا بحران پیدا کیا ہے جہاں حکومت صارفین سے پوری قیمت وصول نہیں کر پاتی، جس سے توانائی کا پورا نظام مالی طور پر بیٹھ جاتا ہے۔
عوامی ردعمل
خبروں کا مجموعی تاثر شدید تشویش کا ہے، جس میں سپلائی میں رکاوٹ کے سنگین مالی نقصانات پر زور دیا گیا ہے۔ 15 فیصد قیمتوں میں اضافے کو ملک میں توانائی کے اسٹریٹجک ذخائر کی کمی اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر انحصار کے براہِ راست نتیجے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •Pakistan LNG Limited (PLL) نے TotalEnergies سے 10-11 جولائی کی ترسیل کے لیے 17.37 ڈالر فی mmBtu کے حساب سے سپاٹ کارگو خریدا۔
- •Oil and Gas Regulatory Authority (OGRA) نے موجودہ مدت کے لیے ریگیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
- •یہ خریداری اس لیے ضروری ہوئی کیونکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں رکاوٹوں کے بعد پاکستان کا بنیادی سپلائر قطر طویل مدتی معاہدے کے مطابق ترسیل کرنے میں ناکام رہا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔