بلوچستان میں بڑے پیمانے پر آپریشن، پاکستانی سیکورٹی فورسز نے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا
پاکستان کے 'Azm-e-Istehkam' آپریشن میں تیزی کے ساتھ ہی، بلوچستان کے حساس علاقوں میں انٹیلیجنس بنیاد پر کی گئی کارروائی ریاست کی جانب سے غیر ملکی سہولت کاروں کے خلاف جنگ میں مزید سختی کا واضح اشارہ ہے۔
This brief is primarily based on official Pakistani military (ISPR) statements, reflecting a strong pro-state perspective. The claims of foreign sponsorship and the 'Fitna al-Hindustan' label are state-driven narratives that have not been independently verified by neutral international observers.

"'Azm-e-Istehkam' کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف یہ مسلسل مہم... ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پوری قوت سے جاری رہے گی۔"
تفصیلی جائزہ
فوج کی جانب سے ان گروہوں کو 'Fitna al-Hindustan' کا نام دینا بھارت کے خلاف ایک سخت موقف کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے مقامی شورش کو نئی دہلی کی پراکسی وار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان آپریشنز کو 'Azm-e-Istehkam' سے جوڑ کر ریاست یہ پیغام دے رہی ہے کہ اب صرف دفاع نہیں بلکہ علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کی قیادت کو بڑے حملوں سے پہلے ہی ختم کرنے کے لیے پیشگی کارروائیاں کی جائیں گی۔
اگرچہ ISPR مستونگ میں ایک خودکش حملہ آور کو ہلاک کرنے کی بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ان سیلز کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک کافی گہرا ہے جسے صرف ٹیکٹیکل کامیابیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی جانب سے بلوچ گروہوں کو 'Fitna al-Hindustan' قرار دینا ایک ایسا بیانیہ ہے جس کا مقصد غیر ملکی دشمن کے خلاف قومی جذبے کو متحد کرنا ہے، تاہم یہ علاقائی کشیدگی اور سرحد پار اثر و رسوخ کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
بلوچستان میں شورش دہائیوں پر محیط ہے، جو نسلی قوم پرستی، علیحدگی پسند مطالبات اور ریاست کے سخت کریک ڈاؤن کے چکروں سے عبارت ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں، سیکورٹی کی صورتحال مقامی جھڑپوں سے بدل کر گوریلا جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے، جس میں ریاستی انفراسٹرکچر اور خاص طور پر China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) سے وابستہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حکومت کا 'Azm-e-Istehkam' کا حالیہ آغاز پچھلی بڑی فوجی مہمات جیسے Zarb-e-Azb اور Radd-ul-Fasaad کا تسلسل ہے۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد کابل میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، جس کے بارے میں پاکستان کا الزام ہے کہ اس نے مختلف پراکسی گروہوں کو مغربی سرحد پار کر کے کارروائیاں کرنے کی شہہ دی ہے۔
عوامی ردعمل
صدر اور وزیراعظم کے بیانات میں عوامی جذبات کو فوج کے ساتھ متحد دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، 'غیر ملکی سرپرستی' پر زیادہ زور دینا ریاست کی ایک تزویراتی کوشش ہے تاکہ صوبے میں جاری سماجی و سیاسی بے چینی اور معاشی عدم استحکام کے درمیان بیانیے کو کنٹرول کیا جا سکے اور مقامی حمایت حاصل کی جا سکے۔
اہم حقائق
- •سیکورٹی فورسز نے 25 اور 26 جون کو بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں دو مختلف انٹیلیجنس بنیاد پر آپریشن کیے۔
- •ان کارروائیوں کے دوران ایک خودکش حملہ آور سمیت مجموعی طور پر آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
- •آپریشن کی جگہوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد کیے گئے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔