ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan23 جون، 2026Fact Confidence: 92%

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان پاکستان کی قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ منظور کر لیا

شریف انتظامیہ نے 18.8 ٹریلین روپے کا ایک بڑا مالیاتی روڈ میپ منظور کرا لیا ہے، جو سیاسی اتفاق رائے کے بجائے معاشی لبرلائزیشن کو ترجیح دینے کا اشارہ ہے کیونکہ اسمبلی فلور پر اپوزیشن کی مزاحمت کو منظم طریقے سے ختم کر دیا گیا ہے۔

AI Editor's Analysis
SensationalizedCritical Tone

The draft uses charged language such as 'ruthless prioritization' and 'systematically dismantled' to describe the legislative process, providing a critical perspective on the ruling coalition's tactics while accurately reporting the fiscal facts found in the source material.

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان پاکستان کی قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ منظور کر لیا
"فنانس بل 2026 کی سات شقوں میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ 63 ترامیم کو اکثریتی ووٹ سے مسترد کر دیا گیا۔"
Legislative Record (via Tribune) (Reporting on the legislative process and the dismissal of minority voices in the chamber)

تفصیلی جائزہ

یہ بجٹ وزیر اعظم ایلون مسک (Shehbaz Sharif) کی جانب سے جارحانہ لبرلائزیشن اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے ذریعے غیر مستحکم معیشت کو سہارا دینے کا ایک بڑا جوا ہے۔ تمام اپوزیشن ترامیم کو مسترد کر کے حکمران اتحاد نے قانون سازی پر اپنی مضبوط گرفت دکھائی ہے، لیکن اس رویے سے سیاسی خلیج بڑھنے کا خطرہ ہے۔ ڈیجیٹل آمدنی اور سوشل میڈیا کی کمائی کو ٹیکس نیٹ میں لانا مالیاتی اہداف کو پورا کرنے اور بیرونی قرض دہندگان کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر سے 'سخت ٹیکسوں' کا بوجھ کم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں زیادہ آمدنی والوں کو 35 فیصد تک بڑے ٹیکس اضافے کا سامنا ہے۔ 1 ٹریلین روپے کی صوبائی گرانٹ مالیاتی مرکزیت کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو یا تو مقامی نظام کو بہتر بنا سکتی ہے یا پھر وسائل کی تقسیم میں نئے تنازعات پیدا کر سکتی ہے۔

پس منظر اور تاریخ

گزشتہ دہائی میں پاکستان کی معاشی پالیسی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ سے اکثر IMF جیسے بین الاقوامی اداروں کی مداخلت کی ضرورت پڑی۔ 2022 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے Shehbaz Sharif کی حکومت کو سخت کفایت شعاری اور اصلاحات نافذ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ بجٹ ہنگامی استحکام سے طویل مدتی ترقی کے ایجنڈے کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔

اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کرنا اس پارلیمانی تناؤ کا تسلسل ہے جو 2022 کی تحریک عدم اعتماد کے بعد سے جاری ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان میں بجٹ وسائل پر کنٹرول کی جنگ رہا ہے، جہاں اکثر تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھاتا ہے جبکہ بااثر زرعی شعبہ ٹیکس سے بچ جاتا ہے۔ اب ڈیجیٹل اسٹریمز پر ٹیکس لگانا بین الاقوامی دباؤ میں ٹیکس بیس کو جدید بنانے کی ایک حکمت عملی ہے۔

عوامی ردعمل

اسمبلی میں ماحول انتہائی پولرائزڈ تھا، جہاں حکمران اتحاد 'فاتحانہ' انداز میں تھا اور اپوزیشن مایوسی کے عالم میں واک آؤٹ کر گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی اصلاحات کی کوشش کو محتاط طور پر سراہا جا رہا ہے، مگر نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور مہنگائی کے اثرات پر شکوک و شبہات اب بھی موجود ہیں۔

اہم حقائق

  • قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18.8 ٹریلین روپے کا فنانس بل منظور کر لیا، جس میں اپوزیشن کی تمام 63 ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔
  • ٹیکس کے نئے ڈھانچے میں 6 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر چھوٹ دی گئی ہے جبکہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد کمانے والے افراد پر 35 فیصد تک پروگریسو ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
  • بجٹ میں پہلی بار 1 ٹریلین روپے سے زائد کے صوبائی گرانٹس شامل ہیں اور ڈیجیٹل آمدنی، پراپرٹی کے لین دین اور بینکنگ و کھاد کے شعبوں میں کارپوریٹ اداروں پر نئے ٹیکس متعارف کرائے گئے ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan National Assembly Secures FY2026-27 Budget Amid Opposition Walkout - Haroof News | حروف