پاکستان نے معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے 3.66 ٹریلین روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی
وزیراعظم Shehbaz Sharif معاشی استحکام کے لیے ایک کمزور فیڈریشن کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے IMF کے سائے میں 3.66 ٹریلین روپے کے ترقیاتی بجٹ پر اہم اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا ہے۔
This brief is based on official government proceedings and statements from the Prime Minister's office, resulting in a narrative that mirrors state-led economic optimism. The tags reflect the reliance on institutional sources while maintaining accuracy regarding the specific budgetary figures approved by the council.

""آنے والے بجٹ میں دفاع کے لیے وسائل کو یقینی بنانا ترجیح تھی، دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔""
تفصیلی جائزہ
NEC کا اجلاس International Monetary Fund (IMF) کو ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبے ایک صفحے پر ہیں۔ 'اجتماعی ٹیم ورک' اور معاشی استحکام پر زور دے کر Shehbaz Sharif انتظامیہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھ سکتی ہے۔ تاہم، وفاقی بجٹ (1 ٹریلین روپے) کے مقابلے میں صوبائی اخراجات (2.21 ٹریلین روپے) کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا 18 ویں ترمیم کی مسلسل کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں وفاق قرضوں کی ادائیگی اور دفاع کا بوجھ اٹھاتا ہے جبکہ صوبوں کے پاس ترقیاتی وسائل کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔
دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دفاعی فنڈز میں اضافے کا واضح ذکر سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جو معاشی بحالی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم ایندھن کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے اہداف کے بارے میں پرامید ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک ایک 'جنگی معیشت' کی نہج پر ہے جہاں ترقیاتی اہداف کو ہمیشہ سیکورٹی کی ضروریات کے ساتھ تولا جاتا ہے۔ 4 فیصد GDP گروتھ کا ہدف موجودہ ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں اور IMF پروگرام کے تحت ممکنہ بچت کے اقدامات کے پیش نظر کافی مشکل نظر آتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
National Economic Council پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جو مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے اور مالیاتی پالیسیوں پر حکومت کو مشورہ دینے کا ذمہ دار ہے۔ 2010 میں 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد اس کی اہمیت بڑھ گئی، جس نے وفاقی حکومت سے صوبوں کو اختیارات اور مالیاتی وسائل منتقل کیے، جس سے اکثر وسائل کی تقسیم اور مالیاتی ذمہ داری پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان کی معاشی تاریخ گزشتہ دہائی کے دوران ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور اس کے بعد IMF کے بیل آؤٹ پیکجز کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بجٹ کا یہ حالیہ چکر 2022-2023 کے بحران کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں ریکارڈ مہنگائی اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ دیکھا گیا تھا۔ موجودہ انتظامیہ کی 'میکرو اکنامک استحکام' پر توجہ اس چکر کو توڑنے کی ایک کوشش ہے تاکہ صوبائی اخراجات کو وفاقی بچت کے اہداف کے مطابق لایا جا سکے۔
عوامی ردعمل
اداریہ کا لہجہ شدید مالی دباؤ کے دوران اعتماد اور قومی یکجہتی کو ظاہر کرنے کی حکومتی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم کی گفتگو 'کامیابی' اور 'ٹیم ورک' کے گرد گھومتی ہے، لیکن بین الاقوامی قرض دہندگان کی توقعات پر پورا اترنے اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے خلاف سرحدوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت کے حوالے سے ایک گہری بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔
اہم حقائق
- •National Economic Council نے اگلے مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 3.66 ٹریلین روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی۔
- •وفاقی ترقیاتی بجٹ 1 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے، جبکہ صوبائی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 2.21 ٹریلین روپے ہے۔
- •حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے GDP کی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد اور مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔