بیوروکریٹک سستی یا اسٹریٹجک تسلسل: PARCO میں فی میٹنگ 3,500 ڈالر کا داؤ
پاکستان کی اہم ترین انرجی شہ رگ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے ریفائنری کے منافع میں کمی کے باوجود PARCO کے بورڈ میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی بھاری بھرکم شخصیات کی دوبارہ تعیناتی کر دی ہے۔
The brief reflects the original source's critical perspective on the Pakistani government's use of bureaucratic appointments in a high-stakes energy joint venture, contrasting official actions with fiscal reform goals.

"مارکیٹ کے غیر مستحکم حالات کی وجہ سے کمپنی کے منافع کے مارجن میں کمی آئی اور لیکویڈیٹی کی صورتحال سخت ہو گئی"
تفصیلی جائزہ
وہی پرانے بیوروکریٹک گروپ — بشمول وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور چیئرمین ایف بی آر — کو دوبارہ لانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ PARCO کو درکار تکنیکی مہارت کے بجائے سیاسی وفاداری کو ترجیح دی گئی ہے۔ اگرچہ وزارت خزانہ نے مالی سال 25-2024 کے لیے منافع میں کمی کی اطلاع دی ہے، حکومت نے PARCO کو جان بوجھ کر State-Owned Enterprise (SOE) قرار نہیں دیا تاکہ اسے سخت اصلاحات سے بچایا جا سکے۔ اس اقدام سے ریاست انرجی سپلائی چین پر اپنی گرفت بھی برقرار رکھتی ہے اور ان شفافیت کے تقاضوں سے بھی بچ جاتی ہے جو اماراتی شراکت داروں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ویانا میں ہونے والی آئندہ میٹنگ، جہاں ڈائریکٹرز فی کس 3,500 ڈالر وصول کریں گے، وزیر اعظم کی جانب سے ایسی فیسوں کو روکنے کی ہدایات اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے درمیان ٹکراؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹریبیون کا دعویٰ ہے کہ باقاعدہ قرارداد کے بغیر وزیر اعظم کی ہدایات بورڈ پر قانونی طور پر لازم نہیں ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ریفائنری کے بورڈ میں پرائیویٹ سیکٹر کی مہارت کا نہ ہونا ایک خطرے کی گھنٹی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ PARCO مارکیٹ کے مطابق چلنے والے ادارے کے بجائے بیوروکریٹک کنٹرول کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
PARCO 1974 میں پاکستان اور ابوظہبی کی حکومتوں کے درمیان ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جو علاقائی تعاون کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ دہائیوں کے دوران یہ 1,200 کلومیٹر طویل پائپ لائن سسٹم اور محمود کوٹ میں ایک بڑی ریفائنری کے ساتھ پاکستان کے انفراسٹرکچر کا ستون بن گیا ہے۔ یہ روایتی طور پر سب سے زیادہ منافع بخش اداروں میں سے ایک رہا ہے، جسے اکثر پسندیدہ سرکاری افسران کے لیے بھاری تنخواہ والے عہدوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستان میں 'SOE' کا درجہ ایک دو دھاری تلوار رہا ہے؛ جہاں یہ قانون سازی کی نگرانی لاتا ہے، وہیں یہ سیاسی مداخلت اور سست فیصلے کا سبب بھی بنتا ہے۔ PARCO کو ایک قانونی 'گرے ایریا' میں رکھ کر — جس کی نگرانی وزارت خزانہ کرتی ہے لیکن اسے SOE نہیں مانا جاتا — یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اپنے وفاداروں کو بورڈ میں تعینات کرنے کی لچک برقرار رکھی ہے۔ اس عمل پر IMF جیسے بین الاقوامی قرض دہندگان اکثر تنقید کرتے ہیں، جو معاشی اتار چڑھاؤ کے دوران انرجی اثاثوں کے انتظام کے لیے پیشہ ورانہ اور خود مختار بورڈز کی حمایت کرتے ہیں۔
عوامی ردعمل
پاکستان کے انرجی سیکٹر میں 'وہی پرانے طریقے' کی حکمرانی کے حوالے سے شکوک و شبہات اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ ناقدین معاشی بحران کے باوجود بھاری مراعات، غیر ملکی دوروں اور ڈالروں میں فیسوں کی موجودگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کی دوبارہ تعیناتی کو کاروباری حکمت عملی کے بجائے طاقت کے استحکام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستانی حکومت نے Pak-Arab Refinery Company (PARCO) کے بورڈ کی تشکیل نو کرتے ہوئے 6 میں سے 5 موجودہ ڈائریکٹرز کو نئی تین سالہ مدت کے لیے برقرار رکھا ہے۔
- •PARCO ایک جوائنٹ وینچر ہے جس میں United Arab Emirates کے پاس 40 فیصد حصص ہیں، جبکہ 60 فیصد کی اکثریت کے ساتھ پاکستان اس کا مالک ہے۔
- •بورڈ کے ممبران ہر میٹنگ کے لیے 3,500 ڈالر فیس کے حقدار ہیں، اور اگلا اجلاس 2 جولائی 2026 کو ویانا، آسٹریا میں ہونا طے پایا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔