PARCO کے اسٹریٹجک بورڈ کی نئی تشکیل؛ مالی مشکلات کے باوجود حکومت کا پرانے بیوروکریٹس پر بھروسہ
پاکستان کی سب سے اہم توانائی کی شہ رگ پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے ایک سوچے سمجھے فیصلے کے تحت اپنے بیوروکریٹک اشرافیہ کو دوبارہ PARCO کے بورڈ روم میں شامل کر دیا ہے، جس میں مارکیٹ کی بنیاد پر اصلاحات کے بجائے سیاسی تسلسل کو ترجیح دی گئی ہے۔
The report highlights factual board appointments while adopting a skeptical tone common in Pakistani financial journalism regarding bureaucratic influence over joint ventures. Readers should note the narrative focus on the tension between government austerity claims and the specific fee structures of autonomous energy entities.

"بورڈ ممبران ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے 3,500 ڈالر فیس کے حقدار ہیں۔۔۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں 2 جولائی کی میٹنگ کی فیس ملے گی یا نہیں کیونکہ فیس کی ادائیگی وزیراعظم کی ہدایات سے مشروط ہے۔"
تفصیلی جائزہ
تجربہ کار بیوروکریٹس بشمول وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور چیئرمین FBR کی دوبارہ تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آزاد تجارتی مہارت کے بجائے انتظامی کنٹرول کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگرچہ PARCO پاکستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے اہم ہے، لیکن وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 میں منافع کے مارجن کم ہو رہے ہیں اور مالیاتی روانی میں کمی آ رہی ہے۔ حکومت اس بات پر شرط لگا رہی ہے کہ بدلتی ہوئی مارکیٹ کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کے بجائے پرانا تجربہ زیادہ کام آئے گا۔
وزیراعظم کی کفایت شعاری کی ہدایات اور بورڈ کے خود مختار فیس اسٹرکچر کے درمیان ایک واضح تناؤ نظر آتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے فیس کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں، لیکن رپورٹ بتاتی ہے کہ بورڈ کی باقاعدہ قرارداد کے بغیر یہ قانونی طور پر لازم نہیں ہیں۔ یہ صورتحال PARCO کی منفرد قانونی حیثیت کو اجاگر کرتی ہے؛ اگرچہ یہ مکمل طور پر سرکاری کمپنی (SOE) نہیں ہے، لیکن یہ ایک ایسے مبہم زون میں کام کرتی ہے جہاں وزارت خزانہ کارکردگی کی نگرانی تو کرتی ہے مگر بورڈ کو خاصی خود مختاری حاصل ہے۔
پس منظر اور تاریخ
PARCO کا قیام 1970 کی دہائی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی تعاون کی علامت کے طور پر ہوا تھا، جو ملک کے تیل صاف کرنے اور پائپ لائن انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہائیوں کے دوران، یہ ایک سادہ ریفائنری سے ایک بڑے توانائی کے گروپ میں بدل گیا، جس میں محمود کوٹ میں قائم مڈ کنٹری ریفائنری ملک کی سپلائی چین کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
تاریخی طور پر، PARCO کا بورڈ اعلیٰ درجے کے سرکاری افسران کے لیے ایک پسندیدہ جگہ رہا ہے، جس پر کارپوریٹ گورننس کی اصلاحات کے حامی تنقید کرتے رہے ہیں۔ حالیہ تبدیلیاں بھی اسی پرانے پیٹرن کی عکاسی کرتی ہیں جہاں بیوروکریٹس کو ایک وقت میں کئی عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے تاکہ منافع بخش مشترکہ منصوبوں پر ریاست کا براہ راست اثر و رسوخ برقرار رہے، چاہے عالمی توانائی کے رجحانات نجی شعبے کے مسابقتی ماڈلز کی طرف کیوں نہ مڑ رہے ہوں۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ حکومت کے 'روایتی طریقے' پر شکوک و شبہات کا حامل ہے، خاص طور پر کمپنی کی حالیہ مالیاتی کارکردگی کے تناظر میں۔ اس میں توانائی کی سلامتی کے بڑے خطرات اور بیوروکریٹک نوازشات اور ضروری مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستانی حکومت نے Pak-Arab Refinery Company (PARCO) کے بورڈ کو دوبارہ تشکیل دیا ہے، جس میں نامزد کردہ چھ میں سے پانچ ڈائریکٹرز کو نئی تین سالہ مدت کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔
- •PARCO ایک مشترکہ منصوبہ ہے جس میں حکومتِ پاکستان کا 60 فیصد اور Abu Dhabi Petroleum Investment Company (UAE) کا بقیہ 40 فیصد حصہ ہے۔
- •بورڈ ممبران فی میٹنگ 3,500 ڈالر فیس کے حقدار ہیں، اور اگلی میٹنگ 2 جولائی 2026 کو ویانا، آسٹریا میں ہونا طے ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔