ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy1 اگست، 20264 منٹ2 ذرائع متفق

انرجی کرائسس 2.0: اسپاٹ مارکیٹ کی افراتفری کے باعث پاکستان میں RLNG کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

عالمی جیو پولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے کے بعد، پاکستان کا انرجی سیکٹر LNG کی قیمتوں میں 148 فیصد اضافے کے بوجھ تلے دب گیا ہے، جس سے ملک کی صنعتی ترقی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

AI Editor's Analysis
SensationalizedFact-based

This report is based on verifiable regulatory data from OGRA but utilizes high-intensity language and reflects a regional narrative regarding the impact of foreign conflicts on local energy supply.

انرجی کرائسس 2.0: اسپاٹ مارکیٹ کی افراتفری کے باعث پاکستان میں RLNG کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
"صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں کمی کرنے کے بجائے، بچت کی رقم گیس سیکٹر کے گردشی قرضے (circular debt) کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، جو کہ تقریباً 3.5 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔"
OGRA (Oil and Gas Regulatory Authority) (The regulator discussing the allocation of identified savings amidst a massive energy sector deficit.)

تفصیلی جائزہ

پانچ LNG کارگو کے لیے اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا ایک بڑا جوا ہے، جو امریکہ-ایران تنازع کی وجہ سے قطری سپلائی کے راستے متاثر ہونے پر لینا پڑا۔ اسپاٹ پرائسنگ پر انحصار کی وجہ سے RLNG سے بننے والی بجلی کی قیمت مئی میں 31 روپے فی یونٹ تک جا پہنچی، جو اپریل میں صرف 13.72 روپے تھی۔ صنعتی شعبے کے لیے یہ صورتحال تباہ کن ہے کیونکہ انرجی کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستانی ایکسپورٹس عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔

ProPakistani کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ OGRA نے 50 ارب روپے کی بچت کی نشاندہی کی تھی، لیکن یہ فنڈز صارفین کو نہیں دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے حکومت اس سرمائے کو 3.5 ٹریلین روپے کے گردشی قرضے کے گڑھے کو بھرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ اس کڑوی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی انرجی مارکیٹ اب معاشی ترقی کا نہیں بلکہ صرف قرضوں کے انتظام کا ایک ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان کا LNG پر انحصار 2015 کے قریب شروع ہوا تھا تاکہ سوئی گیس کے ذخائر میں تیزی سے کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ اگرچہ اس سے شروع میں پاور گرڈ مستحکم ہوا، لیکن اس نے ملک کی معیشت کو عالمی مارکیٹ اور مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں کی سیکیورٹی سے جوڑ دیا۔ اسٹوریج کی کمی اور طویل مدتی معاہدوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ملک اسپاٹ مارکیٹ کے جھٹکوں کی زد میں رہتا ہے۔

رپورٹ میں ذکر کیا گیا گردشی قرضہ (circular debt) گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی ساختی کمزوری رہا ہے۔ یہ مسئلہ سبسڈی، لائن لاسز اور بجلی چوری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی پوری قیمت وصول نہیں ہو پاتی۔ IMF اور مختلف حکومتوں کی مداخلت کے باوجود، یہ قرض ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے جو پورے مالیاتی نظام کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

عوامی ردعمل

رپورٹ کا لہجہ معاشی گھٹن کی عکاسی کرتا ہے؛ عوام اور کاروباری طبقہ ایک ایسی مشکل میں پھنسے ہیں جہاں مشرق وسطیٰ کی بے یقینی براہ راست مہنگائی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ حکومت کی ریلیف دینے کی صلاحیت پر اعتماد کی واضح کمی نظر آتی ہے، کیونکہ اب تمام تر توجہ صرف قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی بقا پر مرکوز ہے۔

اہم حقائق

  • Oil and Gas Regulatory Authority (OGRA) نے اگست 2026 کے لیے RLNG کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد SNGPL کے لیے قیمت 25.83 ڈالر اور SSGCL کے لیے 25.09 ڈالر فی mmBtu ہو گئی ہے۔
  • امریکہ اور ایران کے درمیان علاقائی کشیدگی کی وجہ سے قطر سے گیس کی ترسیل میں رکاوٹ آئی، جس کے باعث پاکستان کو غیر مستحکم اسپاٹ مارکیٹ سے پانچ LNG کارگو خریدنے پڑے۔
  • اگست کے لیے RLNG کا ریٹ فروری 2026 کی قیمتوں ($10.45 فی mmBtu) کے مقابلے میں تقریباً 148 فیصد زیادہ ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad📍 Karachi📍 Lahore

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Energy Crisis 2.0: Pakistan’s RLNG Prices Hit Decade High Amid Spot Market Chaos - Haroof News | حروف