پاکستان کی توانائی میں تبدیلی: سولر کا بڑھتا رجحان اور روایتی بجلی سے علیحدگی
جہاں پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 50,000 MW تک پہنچ گئی ہے، وہیں سولر نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے رجحان نے پرانے تھرمل پاور پلانٹس کو پیچھے چھوڑنا شروع کر دیا ہے، جس سے ملک کی کمزور توانائی کی معیشت میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
The report is primarily based on official data from the Pakistani government's Economic Survey, which frames the energy transition as a positive development, while the analysis provides additional context on the financial risks to the national grid.

""یہ اضافہ نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والے 7,319 MW کی بدولت ہے۔ تاہم، 102 رجسٹرڈ IPPs میں سے 5,105 MW کی مجموعی صلاحیت رکھنے والے 13 IPPs کو بند کر دیا گیا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
سولر نیٹ میٹرنگ میں اضافہ ایک بڑی تبدیلی ہے جو سرکاری بجلی کے شعبے کے روایتی آمدنی کے ماڈلز کے لیے خطرہ ہے۔ اگرچہ کاغذوں پر 8.5 فیصد کا اضافہ ترقی نظر آتا ہے، لیکن یہ مرکزی بجلی گھروں کے لیے ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے: جیسے جیسے خوشحال صارفین اور کاروباری ادارے مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے سولر پر منتقل ہو رہے ہیں، باقی رہ جانے والے عام صارفین پر پرانے تھرمل پلانٹس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ 13 IPPs کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پرانا اور مہنگا تھرمل ماڈل زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
زراعت کے شعبے میں بجلی کے استعمال میں 42.3 فیصد کی بڑی کمی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق کسان اب ڈیزل یا سولر پر منتقل ہو رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ نیشنل گرڈ کی بجلی اب ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ اگر صنعت اور زراعت اسی طرح گرڈ سے ناتا توڑتے رہے، تو حکومت کے لیے گردشی قرضہ (circular debt) اور باقی رہ جانے والے 89 IPPs کو ادائیگیاں کرنا ایک ریاضیاتی ناممکن بن جائے گا۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے پاکستان کی انرجی اسٹریٹجی 1994 اور 2002 کی پاور پالیسیوں پر مبنی تھی، جس میں 'take-or-pay' معاہدوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس میں Independent Power Producers (IPPs) کو ادائیگی کی ضمانت دی گئی تھی چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، جس کی وجہ سے بدنام زمانہ 'circular debt' کا بحران پیدا ہوا۔ جیسے جیسے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں بڑھیں اور روپے کی قدر کم ہوئی، یہ ڈالرز پر مبنی معاہدے قومی خزانے پر بوجھ بن گئے اور بجلی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔
سولر اور مقامی کوئلے کی طرف حالیہ پیش رفت برسوں کی ناکام اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ 2020 کی دہائی کے اوائل میں نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ افزائی بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے کی گئی تھی، لیکن اب اس کی کامیابی حکومت کی مالی پوزیشن کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے، جس کی وجہ سے گرین انرجی اور پرانے تھرمل انفراسٹرکچر کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہو رہا ہے۔
عوامی ردعمل
رپورٹ میں وزارت خزانہ کی جانب سے گرین انرجی کی طرف منتقلی پر تھوڑی بہت خوشی نظر آتی ہے، لیکن پسِ پردہ نیشنل گرڈ کی گرتی ہوئی اہمیت پر گہری تشویش بھی موجود ہے۔ کاروباری طبقہ سولر کو اپنی بقا کی جنگ سمجھ رہا ہے، جبکہ IPPs کی بندش کو ایک ناکارہ نظام کی ضروری کٹائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی بجلی کی کل پیداواری صلاحیت 49,651 MW تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد زیادہ ہے۔
- •سولر نیٹ میٹرنگ نے کل صلاحیت میں 7,319 MW کا حصہ ڈالا، جبکہ 5,105 MW کے حامل 13 Independent Power Producers (IPPs) کو بند کر دیا گیا۔
- •زرعی شعبے میں بجلی کا استعمال 42.3 فیصد تک گر گیا، جو ایک ہی مالی سال میں 4,566 GWh سے کم ہو کر 2,636 GWh رہ گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔