سنگین جرائم پر فوری مقدمات درج کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم
اس فیصلے سے پولیس کی تاخیری حربے ختم ہوں گے اور عام شہریوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو فوری انصاف مل سکے گا۔
سپریم کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت وارننگ دے دی ہے: سنگین جرائم پر فوری ایف آئی آر درج کریں ورنہ توہینِ عدالت اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
This report is based on a single Urdu news source, which limits cross-verification, though it provides an analytical look at the judiciary's attempts to reform police protocols.

"مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کو صرف ایک معمولی غلطی نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ آج کے بعد محمد بخش کیس کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے بڑے افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہوگی۔"
تفصیلی جائزہ
ایکسپریس نیوز کے مطابق، عدالت اس فیصلے کے ذریعے پولیس کی غفلت کو روکنا چاہتی ہے۔ آئی جیز اور ڈی پی اوز کو توہینِ عدالت کی دھمکی دے کر عدلیہ اس 'غیر رسمی تاخیر' کے کلچر کو ختم کر رہی ہے جس کی وجہ سے اکثر ثبوت مٹائے جاتے ہیں۔
محمد بخش کیس کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ کی جانب سے موجودہ قوانین پر عمل نہ کرنے پر ناخوش ہے۔ اگر اس پر عمل ہوا تو سندھ پولیس اور دیگر صوبوں میں تفتیش کا طریقہ کار مکمل بدل سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا قانونی نظام طویل عرصے سے 'تھانہ کلچر' کا شکار ہے جہاں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/B کے تحت عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
2012 کا دادو قتل کیس اس سست روی کی ایک بڑی مثال ہے جہاں قتل کی اطلاع کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں تین دن لگائے۔ عدالت نے اس فیصلے کو سندھی زبان میں ترجمہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ عوامی سطح پر آگاہی بڑھے۔
عوامی ردعمل
یہ رپورٹ انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف عدلیہ کے سخت موقف کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اعلیٰ پولیس افسران کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اہم حقائق
- •سپریم کورٹ آف پاکستان نے دادو کے 2012 کے قتل کیس میں مجرم علی رضا کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔
- •جسٹس صلاح الدین پنہور نے حکم دیا کہ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر FIR درج کی جائے۔
- •عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے یکم جنوری 2025 سے اب تک کے تمام قتل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، خاص طور پر وہ جہاں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہوئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔