پاکستان کی مالیاتی خطرپسندی: سکڑتے ہوئے ٹیکس نیٹ کی قیمت
جہاں ایک طرف اسلام آباد تھکے ہوئے فارمل سیکٹر کے کندھوں پر اپنا بجٹ توازن میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اصل جوا ریاست کی اس ناکامی میں ہے کہ وہ اس بڑی غیر دستاویزی معیشت تک نہیں پہنچ پا رہی جو پاکستان کی طویل مدتی ترقی کو نگلنے کا خطرہ بنی ہوئی ہے۔
The source material is an opinion-heavy business analysis from The Express Tribune; therefore, the brief adopts a highly critical tone regarding Pakistan's fiscal policy and labels government measures as 'extortion' in line with the author's perspective.

"ریاست ایک بہت ہی محدود دستاویزی طبقے سے مزید ریونیو نکال رہی ہے جبکہ معیشت کا ایک بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ بجٹ میں معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس بیس بڑھانے کے اقدامات غائب ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
موجودہ مالیاتی حکمت عملی دستاویزی معیشت یعنی تنخواہ دار افراد اور مینوفیکچررز پر ایک بڑا دباؤ ہے تاکہ IMF کے مقرر کردہ اہداف کو پورا کیا جا سکے، جو کہ سرمایے کے ملک سے باہر جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہول سیل اور زرعی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہ کر کے، حکومت اپنی پیداواری صلاحیت کو ختم کر رہی ہے جبکہ غیر دستاویزی شعبے کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے، یہ صرف بجٹ خسارے کا مسئلہ نہیں بلکہ فارمل مارکیٹ کی مسابقت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
وزارت خزانہ کے دعووں اور مارکیٹ کی حقیقت میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb کا کہنا ہے کہ توجہ نئے ٹیکسوں کے بجائے نفاذ کے ذریعے نیٹ کو وسیع کرنے پر ہے، لیکن ناقدین اور ماہرین اسے صوابدیدی اختیارات اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے 'بھتہ خوری' قرار دیتے ہیں۔ جب تک غیر رسمی معیشت کو دستاویزی نہیں بنایا جاتا، فارمل سیکٹر سکڑتا رہے گا اور ریاست کے پاس ایک سکڑتی ہوئی معیشت کا حصہ ہی بچے گا۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تاریخی طور پر 8 سے 10 فیصد کے درمیان رہا ہے، جو دنیا میں سب سے کم ہے، جس کی جڑیں نوآبادیاتی ڈھانچے میں ہیں جو زمینداروں اور طاقتور تاجر طبقے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ دہائیوں سے حکومتیں ایندھن اور بجلی پر بالواسطہ ٹیکسوں کا سہارا لیتی رہی ہیں، جو غریبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔
گزشتہ بیس سالوں میں دستاویزی معیشت کی مختلف کوششیں سیاسی عدم استحکام اور FBR کی انتظامی نااہلی کی وجہ سے ناکام رہی ہیں۔ ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام عارضی طور پر شروع کیا گیا تھا لیکن اب یہ حکومت کے لیے ایک مستقل سہارا بن چکا ہے، جس سے اسٹرکچرل اصلاحات کے بجائے آسان طریقے سے ٹیکس جمع کیا جاتا ہے۔
عوامی ردعمل
اداریے کا مجموعی تاثر شدید تشویش اور شکوک و شبہات پر مبنی ہے، جہاں ٹیکس کے نظام کو ایک سماجی معاہدے کے بجائے بھتہ خوری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایماندار ٹیکس دہندگان میں تھکن کا احساس پایا جاتا ہے جو اپنی شفافیت کی سزا بھگت رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •حکومتِ پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے 15.264 ٹریلین روپے کا ٹیکس ریونیو ہدف اور 5.336 ٹریلین روپے کا نان ٹیکس ریونیو ہدف مقرر کیا ہے۔
- •252 ملین کی کل آبادی میں سے مالی سال 2025 میں صرف 5.2 ملین ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے، اور ان میں سے تقریباً 39 فیصد صفر ٹیکس آمدنی کے ساتھ فائل کیے گئے۔
- •پچھلی دہائی کے دوران پاکستان میں ٹیکس وصولی میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے، مینوفیکچررز اور رجسٹرڈ ریٹیلرز پر مرکوز رہا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔