اسلام آباد نے کرپشن کے الزامات کے دوران ٹیلی کام اصلاحات کا دفاع کیا
جہاں پاکستان 5G کے دور کے لیے اپنے ڈیجیٹل ڈھانچے کو جدید بنانے کی دوڑ میں ہے، وہیں قانون سازی میں جانبداری کے اسکینڈل نے حکومت کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے قومی انفراسٹرکچر کے اہداف اور کارپوریٹ کرپشن کے الزامات آمنے سامنے آگئے ہیں۔
This report relies heavily on government press briefings and state-aligned media outlets, presenting the official defense against corruption allegations which currently lack independent, neutral verification.

"میں نے وزیر اعظم سے باضابطہ انکوائری کا حکم دینے کی درخواست کی ہے... اگر کوئی غلط کام ثابت ہوا تو میں پوری ذمہ داری قبول کروں گی۔"
تفصیلی جائزہ
کشیدگی کا مرکز Right of Way (ROW) کی دفعات ہیں، جس کے بارے میں ناقدین کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی املاک کے حقوق پر ریاستی سطح پر مداخلت کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگرچہ وزارتِ قانون کا اصرار ہے کہ مالک کی رضامندی لازمی رہے گی، لیکن بل کے لیے حکومت کی بھرپور کوشش 5G کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ایک بے چین کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ وزارت آئی ٹی کا موقف ہے کہ 1996 کا موجودہ قانونی ڈھانچہ اب پرانا ہو چکا ہے اور جدید ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری ہائی ڈینسٹی فائبر نیٹ ورکس کو سپورٹ کرنے کے قابل نہیں ہے۔
یہاں پاور ڈائنامکس بھی واضح ہیں کیونکہ آئی ٹی منسٹر Shaza Fatima Khawaja نے خود اپنے طرزِ عمل کی انکوائری کی درخواست کی ہے، جو کہ قانون سازی میں رکاوٹ بننے والے مالی فائدے کے الزامات کو ختم کرنے کے لیے ایک سٹریٹجک اقدام ہے۔ اگرچہ حکومتی ذرائع ان دعووں کو 'بے بنیاد' قرار دے کر مسترد کرتے ہیں، لیکن یہ تنازعہ اس عوامی بے اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے کہ قانون سازی کی جدید کاری اکثر کارپوریٹ مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ یہ تنازعہ پاکستان کے قانون ساز ایوانوں میں مرکزی ترقیاتی اہداف اور انفرادی جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے درمیان ایک وسیع تر تصادم کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو فی الحال 1996 کے ایک ایکٹ کے تحت چلایا جا رہا ہے، یہ وہ دور تھا جب صرف لینڈ لائنز اور ابتدائی موبائل ٹیکنالوجی موجود تھی۔ تقریباً تین دہائیوں سے، انفراسٹرکچر کی توسیع کو مقامی حکام اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے پیچیدہ قوانین اور 'نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ' (NOC) کی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جو اکثر کیبل بچھانے کے لیے بھاری فیس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں فائبر ٹو دی ہوم (FTTH) کی رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
5G کا حصول پے در پے آنے والی حکومتوں کا ہدف رہا ہے، لیکن سپیکٹرم کی نیلامی اور انفراسٹرکچر کی تیاری میں بار بار تاخیر کی وجہ سے پاکستان بھارت جیسے علاقائی ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔ 2026 کی ترمیم ٹیک سیکٹر کی جانب سے ایک متحد قومی 'Right of Way' پالیسی کے لیے برسوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جو تاریخی طور پر ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک پھیلانے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی ردعمل گہرے شکوک و شبہات اور چوکسی پر مبنی ہے۔ اگرچہ اس بات پر تکنیکی اتفاق پایا جاتا ہے کہ 1996 کے قوانین اب ناکارہ ہو چکے ہیں، لیکن 'Right of Way' کی شق نے ریاستی سرپرستی میں کارپوریٹ تجاوزات کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وزیر قانون اور وزیر آئی ٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس کا حکومتی فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے بیانیے سے بخوبی واقف ہیں جو بل کو 'اشرافیہ کے قبضے' (elite capture) سے جوڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ڈیجیٹل ترقی اور سیاسی نقصان کے کنٹرول کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور ہیں۔
اہم حقائق
- •قومی اسمبلی نے 11 جون کو چھ مخصوص ترامیم کے ساتھ Pakistan Telecommunication (Re-Organisation) Amendment Bill 2026 منظور کیا۔
- •وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے بل کے حوالے سے عوامی خدشات اور مالی بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
- •مجوزہ قانون سازی میں Right of Way (ROW) کی دفعات شامل ہیں جن کا مقصد ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نجی زمینوں کے ذریعے فائبر آپٹک کیبلز کی تنصیب کو آسان بنانا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔