تعداد پر توجہ کی جگہ اب مہارت: پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بدلتا ہوا خطرناک منظرنامہ
جہاں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردانہ کارروائیوں کی تعداد میں کمی کا دعویٰ کر رہی ہیں، وہیں بڑے پیمانے پر ہونے والے حملوں کا تسلسل شدت پسندوں کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے جو اب زیادہ حملوں کے بجائے تباہ کن نتائج والے مخصوص اہداف پر مرکوز ہو گئی ہے۔
This report synthesizes data from the Pakistan Institute for Conflict and Security Studies (PICSS) via Dawn, a reputable Pakistani news outlet. The tags reflect a clinical focus on statistical trends and security analysis rather than ideological posturing.
"دہشت گردی میں مجموعی کمی کے باوجود جون میں بڑے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔"
تفصیلی جائزہ
واقعات کی تعداد میں کمی اور ہائی پروفائل حملوں کے تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ TTP اور بلوچ شدت پسندوں سمیت دیگر گروہ اپنے وسائل کو بڑے اثر والے آپریشنز کے لیے بچا رہے ہیں۔ تعداد کے بجائے معیار کو ترجیح دے کر یہ گروہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت کے استحکام کے دعووں کو غلط ثابت کر سکیں، چاہے مجموعی تشدد میں کمی ہی کیوں نہ آئی ہو۔ یہ تبدیلی فوج کی کامیابی کے پیمانوں کو مشکل بنا دیتی ہے کیونکہ روایتی فوجی آپریشنز کے لیے ان چھوٹے گروہوں کو ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو جدید طرز کے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پہلا ذریعہ (PICSS/Dawn) حملوں کی تعداد میں کمی کو نمایاں کرتا ہے، لیکن اصل رجحان شدت پسندی کے زیادہ پیشہ ورانہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بڑے حملوں کا تسلسل نفسیاتی جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جو بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز اور اندرونی ناقدین کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سیکیورٹی کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اس سے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ریاست کے لیے اب غلطی کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے کیونکہ خطرات کی تعداد کم مگر شدت کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کئی محاذوں پر پھیلی شدت پسندی سے نبرد آزما ہے، جہاں کبھی 'ضربِ عضب' (Zarb-e-Azb) جیسے بڑے فوجی آپریشنز ہوئے تو کبھی امن مذاکرات کے نازک دور آئے۔ 2021 میں پڑوسی ملک افغانستان میں Taliban کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) کی جانب سے، جس نے علاقائی تبدیلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کیا ہے۔
تاریخی طور پر اس خطے میں شدت پسندوں کے حربے عام دھماکوں سے بدل کر ٹارگٹ کلنگ اور فدائی حملوں جیسی پیچیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ارتقاء ان گروہوں کی سیکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے جو ریاست کی جانب سے 'نرم اہداف' (soft targets) کی حفاظت بڑھانے کے بعد اب علامتی یا سخت سیکیورٹی والے مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نمونہ ہے جو ماضی میں بھی پرسکون ادوار کے دوران دیکھا گیا جو اکثر بڑے حملوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے تھے۔
عوامی ردعمل
اس وقت مجموعی تاثر حکومتی اعداد و شمار پر محتاط شکوک و شبہات کا ہے۔ اگرچہ تشدد میں کمی کا خیرمقدم کیا گیا ہے، لیکن سیکیورٹی ماہرین میں یہ بے چینی پائی جاتی ہے کہ خطرہ ختم نہیں ہوا بلکہ مزید نکھر کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ بڑے حملوں کا تسلسل اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ریاست کا سیکیورٹی نظام اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے، جس کی وجہ سے صرف فوجی کامیابیوں کے بجائے جامع انٹیلی جنس اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •Pakistan Institute for Conflict and Security Studies (PICSS) نے جون 2026 کے دوران دہشت گردی کے واقعات کی مجموعی تعداد میں کمی ریکارڈ کی۔
- •حملوں کی تعداد میں کمی کے باوجود، اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اہداف پر بڑے پیمانے کے آپریشنز پورے مہینے جاری رہے۔
- •یہ ڈیٹا شدت پسندوں کے رویے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں وہ اب بہت سارے چھوٹے حملوں کے بجائے مخصوص اور بڑے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔