پاکستان کا مرکزی ثالثی کا کردار: اقوام متحدہ اور روس کی انسدادِ دہشت گردی کے معاہدوں کے لیے کوششیں
وزیرِ داخلہ Mohsin Naqvi کی اقوام متحدہ میں ملاقاتوں کے ساتھ ہی، پاکستان خود کو ایک علاقائی کھلاڑی کے بجائے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم سفارتی پل اور افغان سرزمین سے ہونے والی عسکریت پسندی کے خلاف دفاعی حصار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
This brief is based on reporting from major Pakistani outlets, which naturally highlights the country's diplomatic achievements and regional importance. The 'Pro-State Leaning' tag is applied because the source material frames these international engagements as a significant triumph for the current administration's foreign policy.

""دنیا کو مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے چیلنجز جو قومی سرحدوں پر نہیں رکتے... کوئی ملک ان سے محفوظ نہیں ہے، اور کوئی بھی ملک اکیلا ان سے نہیں نمٹ سکتا۔""
تفصیلی جائزہ
روس کی طرف یہ جھکاؤ اسلام آباد کے سیکیورٹی نظریے میں ایک عملی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ افغانستان میں مبینہ طور پر 25 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے نمٹنے کے لیے ماسکو کے ساتھ تعلقات کو باقاعدہ بنا کر، پاکستان کابل کی غیر یقینی صورتحال کے خلاف اپنے آپ کو محفوظ بنا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب علاقائی استحکام کے لیے صرف مغربی اتحادوں کو کافی نہیں سمجھتا، خاص طور پر جب وہ روس جیسے بڑے علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بارڈر سیکیورٹی کے لیے ایک 'مربوط حکمت عملی' کا خواہاں ہے۔
امریکہ اور ایران کی ثالثی میں پاکستان کے کردار پر اقوام متحدہ کی تعریف ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، مگر خطرات اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ پاکستان تمام فریقین پر 'Islamabad MoU' پر عمل درآمد کے لیے زور دے رہا ہے، لیکن علاقائی تناؤ ان معاہدوں کی پائیداری کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ یہ 'ڈوئل ٹریک' سفارت کاری—ایک طرف امریکہ اور ایران کے اختلافات کو سنبھالنا اور دوسری طرف ماسکو کے ساتھ سیکیورٹی تعلقات کو گہرا کرنا—پاکستان کو ایک اہم جیو پولیٹیکل موڑ پر کھڑا کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی جڑیں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دنیا کے سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے بہت گہری ہیں، یہ ایک ایسا کردار ہے جسے اس نے اپنی بین الاقوامی ساکھ مضبوط کرنے کے لیے دہائیوں سے برقرار رکھا ہوا ہے۔ تاہم، 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے نے علاقائی صورتحال کو یکسر بدل دیا، جس سے سیکیورٹی کی صورتحال اندرونی شورش کے بجائے ایک ایسے پڑوسی ملک سے نمٹنے کی طرف منتقل ہو گئی جہاں اسلام آباد کے مطابق TTP اور ISIS-K جیسے گروہ موجود ہیں۔
روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون سرد جنگ کے دور سے ایک بڑی تبدیلی ہے، جب پاکستان جنوبی ایشیا میں سوویت مفادات کے خلاف امریکی کوششوں کا اہم ذریعہ تھا۔ 2014 سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، جس کی وجہ علاقائی عدم استحکام اور مغربی ترجیحات کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والے خلا میں انتہا پسند گروپوں کی موجودگی پر مشترکہ خدشات ہیں۔
عوامی ردعمل
پاکستانی میڈیا میں اس حوالے سے محتاط کامیابی کا تاثر پایا جاتا ہے، جس میں ثالثی کے ذریعے ملک کی 'سوفٹ پاور' اور عالمی سلامتی میں اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ پولیسنگ میں تکنیکی خلا اور افغان عسکریت پسندوں کے خطرے کے حوالے سے ایک واضح بے چینی بھی موجود ہے، جو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کے لیے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •وزیرِ داخلہ Mohsin Naqvi نے نیویارک میں UN Chiefs of Police Summit (UNCOPS-2026) سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے سائبر کرائم اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں عالمی سطح پر تکنیکی برابری کا مطالبہ کیا۔
- •اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل António Guterres نے پاکستان کی ان ثالثی کوششوں کی باضابطہ تعریف کی جن کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔
- •پاکستان اور روس نے انسدادِ دہشت گردی، منشیات اور سائبر کرائم کی روک تھام پر دوطرفہ تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔