پانی کے شدید بحران کے سائے میں پیاسی فصلوں پر پاکستان کا بڑا جوا
سیاسی مفادات اور ماحولیاتی بقا کی اس کشمکش میں، پاکستان کا زرعی شعبہ اپنے قیمتی آبی وسائل کو ایسی فصلوں پر ضائع کر رہا ہے جو قومی معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔
This report is based on an analytical editorial from The Express Tribune that uses hydrological data to critique Pakistani agricultural policy. The tags reflect the source's strong stance against political industrial lobbies while maintaining a foundation in established water-scarcity statistics.

"اس کا نتیجہ زراعت کی سست رفتار تباہی کی صورت میں نکل رہا ہے جو فوڈ سیکیورٹی، دیہی روزگار اور قومی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔"
تفصیلی جائزہ
مارکیٹ کے نقطہ نظر سے، پاکستان وسائل کی غلط تقسیم کا شکار ہے جس کی وجہ سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ رپورٹ کے مطابق شوگر انڈسٹری کی سیاسی طاقت نے غیر موزوں علاقوں میں گنے کی پیداوار کو زبردستی برقرار رکھا ہوا ہے، جس میں ملکی مفاد کے بجائے نجی صنعتی منافع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگرچہ چاول کی برآمد سے زرمبادلہ آتا ہے، لیکن سندھ اور جنوبی پنجاب میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال ایک ایسا بڑا نقصان ہے جو تجارتی توازن میں نظر نہیں آتا۔
زرعی شعبہ اس وقت زیر زمین پانی کے ایسے ذخائر پر چل رہا ہے جو تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے ہیٹ ویوز جلدی آ رہی ہیں اور مون سون غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے، زیادہ پانی مانگنے والی فصلوں پر انحصار معیشت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ 'The Strategist' کے مطابق، اگر فوری طور پر ایسی فصلوں کی طرف رجوع نہ کیا گیا جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں، تو دیہی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے، جس سے خوراک کی درآمدی لاگت بڑھے گی اور ملک مالی بحران کا شکار ہو جائے گا۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کا موجودہ زرعی بحران 1960 کی دہائی کے 'Green Revolution' کی دین ہے، جس میں نہری نظام اور آبپاشی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیداوار پر توجہ دی گئی تھی۔ اس دور نے یہ تاثر پیدا کیا کہ پانی کے ذخائر لامتناہی ہیں، جس کی وجہ سے گندم اور چاول جیسی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ فوڈ سیکیورٹی اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
گزشتہ تین دہائیوں میں 'شوگر انڈسٹریل کمپلیکس' کے عروج نے اس نظام کو مزید بگاڑ دیا۔ طاقتور سیاسی خاندانوں نے شوگر ملوں میں بھاری سرمایہ کاری کی اور قانون سازی میں اپنے اثر و رسوخ کو سبسڈی اور تحفظ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ شوگر اور رائس لابیز کے اس اثر و رسوخ نے پاکستان کے کاشتکاری کے نظام کو پرانے ماڈل پر منجمد کر دیا ہے، جو کہ اب موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے دور میں معاشی اور ماحولیاتی طور پر خودکش ثابت ہو رہا ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی جذبات شدید تشویش اور پالیسی سازوں کی سستی پر مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ واضح اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ملک ایک ماحولیاتی اور معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ سیاسی اور صنعتی اشرافیہ کے مفادات کو چیلنج کرنے سے قاصر ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان باقاعدہ طور پر پانی کی قلت والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں فی کس 900 کیوبک میٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے۔
- •پاکستان میں ایک کلو چاول پیدا کرنے کے لیے 2,500 سے 3,000 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
- •گنے کی کاشت میں کپاس، دالوں یا تلہن کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا زیادہ پانی استعمال ہوتا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔