پاکستان کے گندم کے اسٹریٹجک ذخائر ختم ہونے کے قریب، صوبوں کی وفاق سے ہنگامی فراہمی کی اپیل
پاکستان کو اس وقت غذائی تحفظ کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، جہاں پنجاب اور سندھ جیسے بڑے زرعی صوبوں نے اپنے وسائل ختم ہونے کے بعد وفاقی حکومت سے ہنگامی طور پر گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ قیمتوں میں ممکنہ دھماکہ خیز اضافے کو روکا جا سکے۔
The report provides a detailed synthesis of national wheat figures and provincial supply demands. It is tagged as Fact-Based as it clinically examines the intersection of international fiscal requirements and domestic logistical failures reported by regional media.

"PASSCO کے پاس موجود 17 لاکھ ٹن کے ذخائر میں سے صوبائی درخواستیں پوری کرنے کے بعد، وفاقی حکومت کے پاس گندم مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔"
تفصیلی جائزہ
موجودہ بحران IMF کے مطالبے پر کی گئی پالیسی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے، جس میں گندم کی امدادی قیمت (support price) ختم کر دی گئی تھی۔ اگرچہ اس کا مقصد مارکیٹ کو آزاد بنانا تھا، لیکن نجی شعبے کی عدم تیاری کی وجہ سے حکومت اب مشکل میں ہے۔ اس سال کے شروع میں کسانوں سے براہ راست گندم نہ خرید کر صوبوں نے سپلائی چین کا سارا خطرہ وفاقی ادارے PASSCO پر منتقل کر دیا ہے، جو اب اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔
صوبوں کے درمیان تناؤ بھی بڑھ رہا ہے؛ ذرائع کے مطابق سندھ نے پنجاب سے سرحدوں پر کنٹرول نرم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ گندم کی نقل و حرکت ہو سکے، جسے پنجاب نے اپنی سپلائی کے مسائل کا حوالہ دے کر مسترد کر دیا۔ اگرچہ حکومت مقامی کسانوں کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ذخائر کی صورتحال بتاتی ہے کہ پاکستان کو دوبارہ مہنگی عالمی مارکیٹ سے 5 سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ آئے گا۔
پس منظر اور تاریخ
گندم کی امدادی قیمت کا نظام کبھی پاکستان کی زرعی معیشت کا ستون تھا، جو کسانوں کو ایک یقینی قیمت فراہم کرتا تھا اور ریاست کے ذریعے خریداری سے غذائی تحفظ کو یقینی بناتا تھا۔ تاہم، بڑھتے ہوئے قرضوں اور IMF جیسے عالمی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں میں ان سبسڈیز کو بتدریج ختم کر دیا گیا۔
اس تبدیلی کے عمل میں شدید بدانتظامی دیکھی گئی ہے۔ 2024 کے خریداری اسکینڈل کے بعد، سرکاری خریداری بند کرنے کے فیصلے نے کسانوں کو نجی مڈل مین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ حالیہ قلت پیداوار کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے لاجسٹک اور مالیاتی ڈھانچے کی ناکامی ہے جو ایک سبسڈی والے ماڈل سے اوپن مارکیٹ میں صحیح طرح منتقل نہیں ہو سکا۔
عوامی ردعمل
بمپر فصل کے باوجود بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر عوام اور میڈیا میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکومت کی انتظامی سستی اور صوبوں کے درمیان آپسی چپقلش پر سخت غصہ ہے جس نے ایک متحد ردعمل کو روک رکھا ہے۔ ماہرین PASSCO کے ذخائر کی کمی کو معاشی دور اندیشی کی کمی قرار دے رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ ہنگامی درآمدات ملک کے مالیاتی خسارے کو مزید بگاڑ دیں گی۔
اہم حقائق
- •پنجاب اور سندھ نے مقامی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاقی ذخائر سے مجموعی طور پر کم از کم 12.2 لاکھ ٹن گندم طلب کی ہے۔
- •پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (PASSCO) کے پاس موجود وفاقی گندم کے ذخائر اس وقت کل 17 لاکھ ٹن ہیں۔
- •اس سال ملک میں 2 کروڑ 98 لاکھ ٹن کی ریکارڈ پیداوار کے باوجود گندم اور آٹے کی قیمتوں میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔