سیاست اور مارکیٹ کی طاقت: عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پاکستانی کہانیوں کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں؟
کراچی میں ہزاروں اسکرینوں کی چمک کے پیچھے، کہانی کاروں کی ایک ایسی نسل انتظار کر رہی ہے جس کے لیے دنیا نے اپنے ڈیجیٹل دروازے کہانی کی روح کے بجائے جغرافیہ اور سبسکرائبرز کی تعداد کی بنیاد پر بند کر رکھے ہیں۔
This report synthesizes claims from a single interview with a local filmmaker, reflecting a specific regional narrative regarding the business decisions of global streaming platforms.

"معیار نہیں بلکہ سیاست وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو پاکستانی مواد کو Netflix، Prime Video اور HBO جیسے عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
پاکستانی تخلیق کاروں کی یہ جدوجہد ایک ایسی ڈیجیٹل تقسیم کو واضح کرتی ہے جہاں فنکارانہ صلاحیت اکثر مارکیٹ کے سائز اور جغرافیائی سیاست کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ مہرین جبار کا موقف ہے کہ کیونکہ عالمی پلیٹ فارمز پڑوسی مارکیٹوں میں زیادہ سبسکرائبرز کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے پاکستانی کہانیوں کو مالی طور پر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر بناتا ہے جہاں مقامی تخلیق کار تکنیکی طور پر تو جدید ہیں لیکن عالمی سطح پر تجارتی طور پر تنہا رہ گئے ہیں۔
صنعت کے اندر حکومتی پالیسی کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے؛ جہاں بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ غیر ملکی ڈرامہ ٹیکس ختم کرنے سے مقامی پروڈکشنز کو نقصان پہنچے گا، وہیں مہرین جبار کا کہنا ہے کہ مقابلہ صحت مند ہوتا ہے اور مقامی مواد نے عالمی سطح پر پہلے ہی اپنی جگہ بنا لی ہے۔ Netflix پر آنے والی پہلی سیریز اس بات کا امتحان ہوگی کہ آیا پاکستانی کہانیاں ان ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کو توڑ پاتی ہیں یا نہیں۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں تک پاکستانی ٹیلی ویژن جنوبی ایشیا میں اردو کہانیوں کے لیے 'گولڈ اسٹینڈرڈ' سمجھا جاتا تھا، جو اپنے کرداروں کی گہرائی اور حقیقت پسندی کے لیے مشہور تھا۔ تاہم، 2010 کی دہائی کے آغاز میں 'ترک یلغار' کے ساتھ حالات بدل گئے، جہاں 'عشقِ ممنوع' جیسے بڑے بجٹ کے ڈراموں نے مقامی ریٹنگز پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد حکومت کو مقامی صنعت کو بچانے کے لیے پروٹیکشنسٹ ٹیکس لگانے پڑے۔
تحفظ پسندی کی یہی روایت اب عالمی اسٹریمنگ کے دور سے ٹکرا رہی ہے۔ اگرچہ مقامی صنعت نے YouTube اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خود کو جدید بنا لیا ہے، لیکن ایک باقاعدہ 'Netflix Original' کا نہ ہونا اس قوم کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جو دیکھتی ہے کہ اس کے پڑوسی ممالک اسی پلیٹ فارم پر عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
مجموعی تاثر تھکاوٹ کے باوجود ہمت اور محتاط امید کا ہے۔ اس بات پر واضح مایوسی پائی جاتی ہے کہ انڈسٹری کی تکنیکی ترقی تخلیق کاروں کے اختیار سے باہر عوامل کی وجہ سے اب تک عالمی سطح پر نظر نہیں آ سکی، لیکن پہلی مقامی Netflix سیریز کی آمد نے امید کی ایک کرن دکھائی ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •ڈائریکٹر مہرین جبار (Mehreen Jabbar) نے علاقائی سیاست اور پڑوسی ممالک میں کارپوریٹ ہیڈ آفسز کی موجودگی کو Netflix پر پاکستانی مواد کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
- •توقع ہے کہ اگلے ایک سال کے اندر پہلی بار ایک پاکستانی اوریجنل سیریز Netflix پر پیش کی جائے گی، جس سے مقامی پروڈکشنز کے لیے مزید دروازے کھل سکتے ہیں۔
- •حکومت پاکستان نے حال ہی میں غیر ملکی ڈراموں پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مقامی ٹی وی چینلز پر ترک مواد کی رسائی متاثر ہوگی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔