دنیا کے آدھے کسان ہر سال کیڑے مار ادویات سے زہر کا شکار
پاکستان کے زرعی علاقوں کے لاکھوں کسانوں کے لیے یہ تحقیق فصلوں کی کٹائی کے پیچھے چھپے ہوئے طبی خطرات کو بے نقاب کرتی ہے۔
وہ سبز لہلہاتے کھیت جو ہماری بھوک مٹاتے ہیں، ان کے پیچھے لاکھوں کسان خاموشی سے بیمار ہو رہے ہیں کیونکہ فصلوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکلز ان کے جسموں میں زہر گھول رہے ہیں۔
The brief accurately synthesizes data from a peer-reviewed study on agricultural health; the 'Single Source' tag is applied because both provided references are to the same article, precluding cross-verification.

""بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے، میں کئی سالوں تک لگاتار اپنے کھیتوں میں کیڑے مار ادویات کا سپرے کرتا رہا۔""
تفصیلی جائزہ
یہ تحقیق جنوبی ایشیا میں صحت کے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتی ہے جہاں کیمیکلز پر انحصار تو زیادہ ہے لیکن حفاظتی اقدامات اور سامان کی کمی ہے۔ خاندانوں کے لیے یہ نتائج بتاتے ہیں کہ گزشتہ دہائیوں کے زرعی ماڈل کی بھاری قیمت انسانی جانوں کی صورت میں چکانی پڑی ہے جسے اکثر معاشی اعداد و شمار میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ رپورٹنگ کا نظام ناقص ہے۔ مزید یہ کہ، تحقیق میں 84 ملین بچوں کو شامل نہ کرنے کا مطلب ہے کہ کیمیکلز کے اثرات کا مکمل اندازہ لگانا ابھی باقی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
کیڑے مار ادویات کا استعمال 20 ویں صدی کے وسط میں آنے والے Green Revolution سے شروع ہوا، جس نے جدید بیجوں اور کیمیکلز کے ذریعے زراعت کو بدل دیا۔ اگرچہ اس سے جنوبی ایشیا میں قحط تو ختم ہو گیا، لیکن کسان کیمیکلز کے اس چکر میں پھنس گئے جہاں کیڑے اب مزید طاقتور ہو چکے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک میں روایتی طریقوں سے کیمیکل فارمنگ کی طرف منتقلی ضروری تربیت کے بغیر ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کمپنیاں اکثر وہ کیمیکلز ایشیا اور افریقہ بھیجتی ہیں جو مغربی ممالک میں پابندی کا شکار ہیں، جو کہ صحت کے معاملے میں دہرا معیار ہے۔
عوامی ردعمل
ماہرینِ صحت اور ماحولیات میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ادارے خطرناک کیمیکلز پر مکمل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ بعض یورپی ممالک نے ان ادویات سے ہونے والی Parkinson's جیسی بیماریوں کو کام کے دوران ہونے والی بیماری تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔
اہم حقائق
- •ایک اندازے کے مطابق ہر سال 40 سے 43 کروڑ کسان کیڑے مار ادویات کے زہر کا شکار ہوتے ہیں۔
- •سالانہ تقریباً 11,000 افراد ان ادویات کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں سے 60 فیصد اموات India میں ہوتی ہیں۔
- •1990 کے بعد سے دنیا بھر میں کیڑے مار ادویات کا استعمال دوگنا ہو چکا ہے، جو 2023 میں 38 لاکھ ٹن تک پہنچ گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔