نشانہ بنا کر رپورٹنگ: جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران Press TV کے صحافی زخمی
جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے دوران، 'Press' کی نیلی واسکٹ ایک بار پھر ڈھال بننے میں ناکام رہی۔ میڈیا ٹیم پر براہ راست حملے نے ان مہلک خطرات کو واضح کر دیا ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی فرنٹ لائنز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو درپیش ہیں۔
This report is based on claims from a journalist affiliated with the Iranian state-owned Press TV via Al Jazeera; while the injury is documented, the assertion of intentional 'targeting' remains a regional claim that has not been independently verified by neutral international observers.

"مجھ پر نشانہ لگا کر حملہ کیا گیا حالانکہ میں نے ‘Press’ کی واسکٹ پہن رکھی تھی۔"
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ جنگی علاقوں میں میڈیا اہلکاروں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو نمایاں کرتا ہے جہاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، خاص طور پر صحافیوں کا تحفظ، ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایرانی ریاست سے وابستہ میڈیا Press TV کے صحافی کو نشانہ بنانا اسرائیل، حزب اللہ اور ایران کے درمیان جاری دشمنی کے تناظر میں جغرافیائی و سیاسی تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ جنگی علاقوں میں صحافتی شناخت بھی جان کی ضمانت نہیں دیتی۔
Al Jazeera کی رپورٹ کے مطابق ہادی ہوتیت کو ان کی صحافتی شناخت کے باوجود نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج عام طور پر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتی ہے اور صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتی۔ ان کے مطابق میڈیا ٹیمیں اکثر جنگجوؤں کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے خطرے میں ہوتی ہیں، جس سے جدید جنگوں میں ارادوں اور فوجی ضرورتوں کے حوالے سے متضاد بیانیے جنم لیتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
اسرائیل اور لبنان کی سرحد گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی کا مرکز رہی ہے، جس کی بنیاد 1982 کے حملے اور بعد میں حزب اللہ کے قیام سے پڑی۔ جنوبی لبنان میں خاص طور پر 2006 کی لبنان جنگ کے بعد سے اکثر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے، جہاں صحافی اکثر غیر ریاستی گروہوں کے درمیان ہونے والی جنگ کی کوریج کے دوران لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔
بین الاقوامی نگران اداروں نے اکثر اس خطے کو میڈیا ورکرز کے لیے مہلک ترین قرار دیا ہے۔ Reporters Without Borders اور Committee to Protect Journalists جیسے گروپ پریس قافلوں پر حملوں کی مذمت کرتے رہے ہیں، لیکن شدید فوجی ماحول اور سرحدی واقعات کی آزادانہ تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے جوابدہی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
عوامی ردعمل
اس رپورٹ کا مجموعی تاثر میڈیا کو حاصل بین الاقوامی تحفظات کی عدم فراہمی پر شدید تشویش اور مذمت کا ہے۔ یہ واقعہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران صحافیوں کے لیے مستقل خطرے کے تاثر کو تقویت دیتا ہے، جس سے علاقائی سطح پر غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اہم حقائق
- •15 جون 2026 کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران Press TV کے صحافی ہادی ہوتیت چھرے لگنے سے زخمی ہو گئے۔
- •واقعے کے وقت ہادی ہوتیت نے واضح طور پر 'Press' کی واسکٹ پہن رکھی تھی۔
- •حملے کے بعد صحافی کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔